.

شاہ سلمان کا ایران کے خلاف خطۂ خلیج کے اتحاد کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطے میں ایرانی نظام کے جارحانہ کردار سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک میں اتحاد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

وہ منگل کے روز سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سربراہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی رجیم نے خطے میں جارحانہ پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جن سے ہمسایہ ممالک کے استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

شاہ سلمان نے کہاکہ جی سی سی نے اپنے قیام کے بعد سے خطے کو درپیش ہونے والے کئی ایک بحرانوں پر قابو پایا ہے۔انھوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ توانائی کی رسد اور محفوظ بین الاقوامی جہاز رانی اور آزادانہ حمل و نقل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

قبل ازیں شاہ سلمان نے منگل کی صبح جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے دوسرے ممالک کے وفود کا خیرمقدم کیا۔ان میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم ، امیرکویت شیخ صباح الاحمد الصباح ،بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ ، قطر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر خلیفہ آل ثانی اور عُمان کے نائب وزیراعظم فہد بن محمود السعید شامل ہیں۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سکیورٹی ،خطے میں ایران کی مداخلت ، شام میں جاری بحران ، یمن جنگ اور کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس سے قبل گذشتہ چند ایک ماہ کے دوران میں خطے میں پے درپے کئی ایک واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان میں سے سب اہم 14 ستمبر کو سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملہ تھا۔اس حملے کا الزام ایران پر عاید کیاگیا تھا لیکن اس نے اس کی تردید کی تھی۔اس کے علاوہ خلیج عرب میں تیل بردار اور مال بردار بحری جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں اور ان تمام حملوں کا الزام بھی ایران پر عاید کیا گیا تھا۔

جی سی سی امریکا کی ایران کے خلاف کڑی پابندیوں کے ذریعے ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ برقرار رکھنے کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔خطہ خلیج ان پابندیوں کےردعمل میں ایران کی کسی بھی طرح کی کارروائی سے نمٹنے کے لیے تیار رہا ہے۔