.

یورپی فوجی مشقوں میں 25 سال بعد امریکا کی غیرمعمولی شرکت کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا یورپی خطے میں ہونے والی فوجی مشقوں میں 25 سال بعد غیرمعمولی اور بڑے پیمانے پر شرکت کی تیاری کررہا ہے۔

خبر رساں اداروں کےمطابق 25 برس کے بعد یہ پہلاموقع ہے کہ امریکا اپنی عسکری طاقت کے اظہار کےلیے آئندہ سال ہونے والی مشقوں میں اپنی 20 ہزار فوج بھیجے گا۔

سینیرامریکی فوجی افسر جنرل کریسٹوفر کاوولی کا کہنا ہےکہ یورپی ملکوں میں ہونے والی مشقوں میں امریکی فوج کی شمولیت روایتی حریف روس جیسے ممالک کے سامنے اپنی عسکری پاورکا اظہار کرنا ہے۔

خیال رہے کہ 'ڈیفنڈر یورپ 20' کے عنوان سے یہ مشقیں آیندہ سال ہورہی ہیں۔ ان مشقوں میں یورپ میں موجود 9 ہزار امریکی فوجی بھی حصہ لیں جب کہ مجموعی طور پر اتحادی ممالک کے 37 ہزار فوجیوں کو ان مشقوں میں شامل کیا جائے گا۔

یہ مشقیں آئندہ سال اپریل اور مئی یا جون کے درمیان یورپ کے 10 ممالک میں ہوں گی۔

یورپ میں امریکی بری فوج کے سربراہ جنرل کاوولی نے پینٹا گان میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج ان مشقوں میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کےلیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی ملکوں میں ہونے والی مشقوں میں حصہ لینے کے لیے امریکی فوج کو آئندہ سال فروری میں 13 ہزار جنگی اور تیاری کے آلات کےساتھ بھیجا جائے گا۔

امریکا کے جنگی آلات بعض مغربی یورپی ممالک کے لیے ایک چیلنج بھی بن سکتے ہیں کیونکہ ان ملکوں کی ریلوے لائنیں تنگ اور ان کے پل امریکا کے 70 ٹن وزنی ٹینک کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان مشقوں میں امریکا کی بری فوج، فضائیہ اور نیول کے اہلکار شامل ہوں گے۔ توقع ہے کہ مشقوں کے دوران فوجیوں کو پولینڈ میں دریا عبور کرنے، لیتوانیا میں فضاء سے اترنے اور جرمنی میں مشترکہ آپریشن جیسے تجربات سے گذرنا پڑے گا۔