.

کیا سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران نے حملہ کیا تھا؟ اقوام متحدہ تصدیق سےانکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ستمبر میں سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے میں ایران کے ملوّث ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا۔

سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی ششماہی رپورٹ پیش کی ہے۔اس میں سعودی آرامکو کی تیل کی تنصیبات پرحملے میں ایران کے مبیّنہ طور پر ملوّث ہونے کا بھی ذکر ہے۔

انھوں نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کو آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے ملبے تک رسائی دی گئی تھی لیکن تحقیقات سے ابھی یہ پتا نہیں چل سکا ہے کہ آیا حملے میں استعمال کیے گئے کروز میزائل اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے ایران کے ساختہ تھے۔‘‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک حملے کی تحقیقات جاری ہے اور اس کی تکمیل کے بعد رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اگلے روز ہی مملکت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ 14 ستمبر کو سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر حملوں کے لیے ایران کے ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں آرامکو کی خام تیل کی پیداوار میں نصف (قریباً اٹھاون لاکھ بیرل یومیہ) تک کمی واقع ہوگئی تھی۔

اس حملے سے دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے پراسیسنگ پلانٹ کو نقصان پہنچا تھا مگر سعودی آرامکو نے ایک ہفتے میں اپنی پیداوار مکمل طور پربحال کر لی تھی۔امریکی انٹیلی جنس کے مطابق سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران سے حملہ کیا گیا تھا۔ایران نے بقیق اور ہجرۃ خریص میں واقع تیل تنصیبات پرحملوں کے لیے قریباً ایک درجن کروز میزائل داغے تھے اور بیس سے زیادہ ڈرونز چھوڑے تھے۔ان کے ٹکرانے سے ان دونوں تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا تھا کہ اس حملے میں ایرانی ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اس حملے کے چار روز بعد 18 ستمبر کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملوں کا اسپانسر ایران تھا مگر یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے تھے جبکہ ایران نے ایسا ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

ترجمان نے سعودی آرامکو کی اہم تنصیب بقیق پر حملے کو عالمی معیشت پر حملہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے پچیس ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے اورڈرون شمال سے جنوب کی سمت آئے تھے جبکہ یمن سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے اور اس کی سرحد سے متصل یمن کا شمالی صوبہ صعدہ حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔