امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ترکی کے خلاف پابندیوں کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ترکی کے خلاف شام کے شمال مشرقی علاقے میں فوجی کارروائی اور روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرید کرنے پر پابندیاں عاید کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ری پبلکن ارکان کی اکثریت ہے اور انھوں نے چار کے مقابلے میں اٹھارہ ووٹوں سے اس مجوزہ بل کی منظوری دی ہے۔اب سینیٹ میں’’امریکی قومی سلامتی کا فروغ اور داعش کے احیاء کو روکنےکا ایکٹ 2019‘‘ پر رائے شماری ہوگی۔

خارجہ تعلقات کمیٹی کے ری پبلکن چئیرمین سینیٹر جیم ریش نے کہا کہ ’’اب سینیٹ کے لیے ترکی کے کردار کو تبدیل کرنے کا موقع ہے۔وہ مل کر یہ کام کر گزرے۔‘‘

سینیٹر ریش کا کہنا تھا کہ ’’ترکی کے ساتھ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوا ہے بلکہ وہ ماضی کے بالکل برعکس ایک مختلف سمت میں چل پڑا ہے۔انھوں (ترکوں) نے نہ صرف ہمیں، بلکہ دوسرے نیٹو اتحادیوں کو بھی ٹھینگا دکھا دیا ہے۔‘‘

تاہم ایک اور ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بل پر معترض ہوگی کیونکہ اس سے صدر کا اختیار کمزور ہوگا اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ روس سے میزائل نظام کی خریداری اور شام میں لڑائی ایسے موضوع پر مذاکرات مزید مشکل ہوجائیں گے۔

مگربہت سے دوسرے سینیٹروں نے ان کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس، طرفین کے سینیٹروں نے ترکی کے روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرید کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کا یہ نظام نیٹو سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے اور اس کے لیے خطرے کا موجب ہے۔

وہ ترکی کی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی پر بھی نالاں اور غصے میں ہیں کیونکہ کرد جنگجو ماضی قریب میں امریکی فورسز کے ساتھ مل کر شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور ان کی بدولت ہی امریکا کی قیادت میں اتحاد برسرزمین داعش کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں