عراق میں موجود ایرانی ملیشیائیں سُرخ لکیرکی طرف بڑھ رہی ہیں:امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سینیر امریکی فوجی عہدیدار نے بدھ کے روز کہا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کے لیے قائم کردہ اڈوں پر ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے حملے بڑھتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں حالات مزید پیچیدہ ہو رے ہیں۔ مسلسل بگڑتے حالات فریقین کو ایسی کشیدگی کی طرف لے جا رہے ہیں جس پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکی عہدیدار کی طرف سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہےجب حالیہ دنوں میں بغداد میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملے کیے گئے ہیں۔گذشتہ بدھ کے روز کیے گئے حملے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی عہدے دار نے 'رائٹرز' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے 'داعش' تنظیم کے جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کی اتحادیوں کی صلاحیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ایران پرامریکی اقتصادی پابندیوں کے باعث خطے میں امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ان حملوں میں ایرانی حمایت یافتہ الحشد ملیشیا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی عہدیدارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم مشتعل حملوں کا سامنا کرنے کے عادی ہیں۔ ماضی میں عراق میں ہم پر بہت حملے ہوتے رہے۔ التبہ کچھ عرصے کے وقفے کے بعد اب راکٹ حملے صورت حال کو ایک بار پھر پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی پریشان کن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرائونڈ پرجب بھی کوئی تبدیلی آئے گی تو شرپسند اشتعال پھیلانے کے لیے کچھ بھی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے قریب سمجھے جانے والے عراقی مسلح دھڑے ریڈ لائن کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے فوج طاقت کے ساتھ جواب دیا تو اس کے نتائج کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں