.

امریکی سینٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے: انقرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے جمعرات کے روز آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ہیں۔

ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کا رویہ ترکی - امریکا تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے ... سینیٹ میں آج امریکی فیصلے سے ہمارے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے پر ووٹ ڈالنے والے سیاستدان تاریخ میں ان عہدیداروں کے طور پر یاد رکھاجائے گا جنہوں نے ترکی اور امریکا کے مابین تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا۔

ادھر تُرک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ ترکی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے مسترد کرتا ہے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی نے ترک وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی سینیٹ کے مبینہ آرمینی نسل کشی کے مسودے کو اپنانا ماضی کی سیاست کرنے کی ایک شرمناک مثال ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو امریکی سینیٹ نے آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی۔ قرارداد کی منظوری نے انقرہ کو مشتعل کردیا۔

تقریبا 30 ممالک آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سلطنت عثمانیہ کی افواج نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیا میں 12 سے 15 لاکھ کے درمیان آرمینی باشندے قتل کردیے تھے۔ اس وقت آرمینیا جرمنی اورہنگری کا اتحادی تھا۔ ترکی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔