.

برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بری طرح شکست، بورس جانس کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے قبل از وقت عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق 650 کے ایوان میں کنزرویٹو پارٹی نے 358 نشستیں حاصل کر لی ہیں جب کہ لیبر پارٹی 203 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

برطانیہ کے 650 نشستوں پر مشتمل ایوان میں کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 326 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ جمعرات کو ہونے والی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

کنزرویٹو پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے جس کے بعد برطانیہ کے یورپی یونین سے علاحدگی کا طویل مدتی انتظار بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد جمعرات کو تیسری مرتبہ عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 48، لبرل ڈیموکریٹس نے 11، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے آٹھ، سن فین نے چھ، پلیڈ کیمرو نے چار اور گرین پارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔​

اس سے قبل ایگزٹ پولز میں امکان ظاہر کیا جارہا تھا کنزرویٹو پارٹی 368 اور لیبر پارٹی کو 191 نشستیں مل سکتی ہیں۔

لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربین نے انتخابات کے مکمل نتائج کی آمد سے قبل ہی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کی قیادت نہیں کریں گے۔ جیریمی کوربین کے اعلان سے خیال کیا جارہا ہے کہ لیبر پارٹی نے شکست تسلیم کر لی ہے۔

​وزیرِ اعظم بورس جانسن اپنی انتخابی مہم کے دوران، 'بریگزٹ ممکن بنایا جائے گا' کا اعلان کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اپنی قدامت پسند پارٹی کے لیے پارلیمانی اکثریت کا حصول ان کی منزل مقصود ہے، جس سے اُنہیں یہ طاقت میسر آئے گی کہ وہ یورپی یونین کو خیرباد کہنے والی کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے اور 31 جنوری تک بریگزٹ پر عمل درآمد ہو گا۔
یاد رہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم تھریسامے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے معاہدے کو پارلیمان سے منظور کرانے میں ناکام رہی تھیں۔

اپنے دورِ اقتدار کے دوران تھریسا مے نے 'بریگزٹ' کے لیے مذاکرات میں مضبوط حیثیت کے حصول کے لیے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا، لیکن یہ فیصلہ ناکام رہا اور کنزرویٹو پارٹی کو کئی نشستوں پر شکست ہوئی۔