.

ترکی کے جہازوں کے لیے سمندری گذر گاہ بند کر دی ہے : لیبیا کی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج کی بحریہ کے سربراہ بریگیڈیر جنرل فرج المہدوی کا کہنا ہے کہ لیبیا اور یونان اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ یونان کے جزیرہ کریٹ اور لیبیا کی مشرقی سمندری حدود کے درمیان سمندری راستے کو ترکی کے بحری جہازوں کے لیے بند کر دیا جائے ، بالخصوص وہ جہاز جو عسکری گاڑیاں، ہتھیار اور داعشی عناصر کو لے کر لیبیا کے مغرب کی سمت آ رہے ہوں۔

جمعرات کی شب العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں المہدوی نے مزید کہا کہ "ترکی کے جہازوں کی کڑی نگرانی کی خاطر یونان اور لیبیا کے درمیان بڑے پیمانے پر رابطہ کاری ہے۔ کسی بھی ترک جہاز نے یونانی ساحل کی حدود کی خلاف ورزی کی تو یونان کی جانب سے اسے حراست میں لینے کے لیے مداخلت ہو گی۔ اسی طرح اگر ترکی کے جہاز نے تیل کی تلاش یا ملیشیاؤں کو ہتھیار پہنچانے کے لیے مغربی لیبیا کی بندرگاہوں تک وصولی کے واسطے لیبیا کے پانی کو عبور کیا تو ہم اسے ضرب لگا کر غرق کر دیں گے۔"

المہدوی کے مطابق لیبیا کی فوج کی عام کمان نے بحریہ کو تمام تر مطلوبہ ساز و سامان اور اختیارات دے دیے ہیں تا کہ ترکی کے جہازوں کی جانب لیبیا کے پانی سمندری حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوی مداخلت کی جا سکے اور کسی بھی خطرے کو ختم کیا جا سکے۔

لیبیا کی بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "ہم سب جانتے ہیں کہ ترکی میں داعش کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ لہذا انقرہ کے نزدیک طرابلس کا معرکہ ان سے چھٹکارہ پانے کا ایک موقع ہے ، اسی واسطے وہ ان جنگجوؤں کو ملیشیاؤں کی سپورٹ اور لیبیا کے لوگوں کو قتل کرنے کے واسطے بھیج رہا ہے"۔

المہدوی نے لیبیا میں وفاق کی حکومت اور ترکی کے درمیان دستخط کیے جانے والے معاہدے کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھوتا لیبیا کو ہتھیاروں اور دہشت گردوں میں غرق کر دے گا اور اس سے پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی جنم لے گی۔