.

خلیفہ حفتر کا لیبی قومی فوج کو طرابلس کی جانب پیش قدمی کا حکم

شہر میں موجود مسلح افراد کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والےکمانڈر جنرل خلیفہ حفتر نے اپنے زیر کمان قومی فوج کو دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے شہر میں موجود مسلح افراد کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

خلیفہ حفتر نے جمعرات کی شب ایک نشری تقریر میں کہا:’’ لیبی قومی فوج طرابلس کی جنگ میں واضح طور پر فاتح ہے۔ہم طرابلس کی جانب پیش قدمی کرنے والے یونٹوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ جنگ کے اصولوں کی پاسداری کریں۔جو جنگجو ہماری فوج کے خلاف لڑرہے ہیں، ہم ان پر زوردیتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں ہی میں رہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر وہ محفوظ ہوں گے۔‘‘

جنرل خلیفہ حفتر گذشتہ کئی ماہ سے قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) کے زیر تسلط دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کررہے ہیں۔

ان کی اس تقریر سے قبل طرابلس کے واحد چالو ہوائی اڈے سے دوبارہ پروازیں بحال کردی گئی ہیں۔اس ہوائی اڈے سے تین ماہ قبل بار بار کے راکٹ حملوں کے بعد پروازیں معطل کردی گئی تھیں۔

لیبی قومی فوج نے جی این اے پر طرابلس کے معیتیقہ ہوائی اڈے کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس ہوائی اڈے سے چھوڑے جانے والے ڈرونز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ان ڈرونز سے طرابلس کے جنوب میں تعینات لیبی قومی فوج کے فوجیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔