.

لیبیا : حفتر کی فوج کا طرابلس پر فضائی کنٹرول ، جنوب میں جھڑپیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں العربیہ کے نمائندے نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں شارع المطبات پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اس سے قبل لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان بریگیڈیر جنرل احمد المسماری نے جمعے کو علی الصبح تصدیق کی تھی کہ "ہم نے فضائی لحاظ سے طرابلس میں دشمن پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے"۔ العربیہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "ہماری فورسز نے طرابلس میں وفاق کی حکومت کے بریگیڈز کے خلاف مختلف نوعیت کی کارروائیاں کی ہیں"۔

المسماری نے زور دیا کہ "کمانڈر انچیف خلیفہ حفتر کی جانب سے ملیشیاؤں کے لیے ہتھیار ڈالنے کی یہ آخری کال ہے"۔

ترجمان کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کے یونٹوں نے دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ملیشیائیں اس معرکے کے کسی بھی مرحلے میں مسلح افواج کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں گی۔

ادھر لیبیا کی قومی فوج کے حربی ذرائع ابلاغ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اعلان کیا ہے کہ صلاح الدین کے علاقے میں وفاق کی حکومت کی فورسز کے زیر انتظام 11 مسلح جنگجوؤں نے خود کو قومی فوج کے یونٹوں کے حوالے کر دیا ہے۔ لیبیا کی فوج کے سربراہ یورپی ممالک کو آگاہ کر چکے ہیں کہ مسلح ملیشیاؤں کی تحلیل سے قبل فوجی آپریشن ہر گز نہیں روکا جائے گا۔

دوسری جانب خصوصی ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا ہے کہ وفاق کی حکومت بالخصوص اس کے وزیراعظم فائز السراج کو طرابلس میں کثیر القومی عناصر کے علاوہ ترکی کی فورسز کا تحفظ حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق ترکی کے طیاروں کا داخلہ روکنے اور وفاق کی حکومت یا مسلح ملیشیا کے عناصر کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کے لیے لیبیا کی فضائی حدود کو بند کر دیا جائے گا۔

انٹیلی جنس معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ فائز السراج اور ان کی حکومت کے ارکان فوجی آپریشن جاری رہنے اور لیبیا کی فوج کے طرابلس میں داخل ہونے کی صورت میں ملک سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

العربیہ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کے زیر کنٹرول آنے والے متعدد علاقوں سے ترکی میں تیار کیا گیا اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کی فوج کے دارالحکومت طرابلس میں داخل ہونے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ہی وفاق کی حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام معاہدے کالعدم ہو جائیں گے۔ اسی طرح ترکی کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتوں کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔

یاد رہے کہ لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی جانب سے جمعرات کی شام طرابلس میں فیصلہ کن معرکہ شروع ہونے کا اعلان کیے جانے کے بعد ان کی افواج نے دارالحکومت کی سمت ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا۔ ان افواج نے طرابلس کے جنوب میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کی ہے۔ اس دوران فوج کی وفاق کی حکومتی ملیشیاؤں کے ساتھ دارالحکومت کی سب سے بڑی شاہراہ شارع المطبات پر شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔