.

افغان ملیشیا کے 9 اہل کار’’ اندرونی حملے‘‘میں ہلاک

طالبان کے ترجمان کا صوبہ غزنی میں چیک پوائنٹ پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے وسطی صوبہ غزنی میں ایک ملیشیا کے اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں نو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ نے واقعہ کو ’’اندرونی حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ مزاحمت کاروں کا ایک چیک پوائنٹ پریہ مربوط حملہ تھا۔پھر وہاں فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں افغان ملیشیا کے بیس سے زیادہ اہلکار مارے گئے ہیں۔

تاہم ترجمان نے ہلاکتوں کی تعدادمیں اتنے زیادہ فرق کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ طالبان ماضی میں بھی افغان سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے بارے میں اسی طرح کے مبالغہ آمیز دعوے کرتے رہے ہیں اور وہ افغان فورسز کی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان فواد امان نے کہا ہے کہ یہ حملہ صوبہ غزنی کے ضلع قراباغ میں ہفتے کی صبح کیا گیا تھا۔اس کی ابھی کوئی زیادہ تفصیل موصول نہیں ہوئی ہے۔اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اورحملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں بھی کچھ نہیں معلوم ہوسکا ہے۔

افغان ملیشیائیں ملک کے دوردراز علاقوں میں سکیورٹی کے فرائض انجام دیتی ہیں اور یہ نیشنل سکیورٹی فورسز کے زیر کمان کام کرتی ہیں۔انھیں کم وبیش روزانہ ہی طالبان کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔