.

امریکا لبنان میں مظاہروں کو ایران پر دباؤ کے لیے استعمال کررہا ہے: حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ لبنان میں عوامی احتجاجی مظاہروں کو ایران پر دباؤ کے لیے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

انھوں نے جمعہ کی شب ایک نشری تقریر میں لبنانی حکومت کے اکتوبر میں فیسوں میں اضافے کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔حکومت نے انٹرنیٹ کے ذریعے کالز پردن میں 20فی صد اضافی ٹیکس عاید کردیا تھا۔اس کے علاوہ دیگر محصولات میں اضافہ کردیا گیا تھا۔اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’امریکی لبنان ، عراق اور شام میں احتجاجی مظاہرے دیکھتے رہے ہیں۔اب وہ یمن کی بھی بات کررہے ہیں۔یہ سب ایران پر دباؤ ڈالنے کے حربے ہیں۔ان کے مطابق یہ ان کے ہتھکنڈے ہیں اور ان کا (امریکیوں کا) یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس ایران کے جنگ پسند کردار کی وجہ سے دباؤ ڈالنے کے اور بھی حربے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزیدکہا:’’ دنیا میں جو کچھ بھی رونما ہوتا ہے، امریکی اس میں مداخلت کرتے ہیں۔وہ عوامی تحریکوں سے اس انداز میں ناجائز فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ جس سے ان کے اپنے مفادات پورے ہوتے ہوں ناکہ مظاہرین کے مفادات پورے ہورہے ہوں۔‘‘

حسن نصراللہ نے اس سے کوئی ایک ماہ قبل ایک اورتقریر کی تھی اور اس میں لبنان میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔ حسن نصراللہ نے مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ مظاہرین کو حزب اللہ کے مخالف غیرملکی ایجنٹوں کی جانب سے رقوم مہیا ہورہی ہیں اوروہ ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔اس کے بعد ان کے حامیوں نے بیروت میں مظاہرین کے خلاف ریلی بھی نکالی تھی۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے ہزاروں شہری حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، پست معیار زندگی،بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔