.

سوڈان:معزول صدرعمرالبشیرکو بدعنوانی کے جرم میں دو سال قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں ایک عدالت نے معزول صدر عمرحسن البشیر کو بدعنوانی اور غیر قانونی طور پر غیرملکی کرنسی رکھنے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر دو سال قید کی سزا سنادی ہے۔

عدالت کے جج نے ہفتے کے روز اپنے حکم میں قراردیا ہے کہ 75 سالہ معزول صدر کو ان کی ضعیف العمری کے پیش نظر کسی جیل میں قید نہیں کیا جائے بلکہ انھیں ایک اصلاحی مرکز میں بھیجا جائے۔اس وقت انھیں خرطوم کی الکوبر جیل میں رکھا جارہا ہے اور وہیں سے انھیں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی معیت میں عدالتوں میں پیشی کے لیے لایا جاتا ہے۔

جج نے عمر حسن البشیر کی برطرفی کے وقت ان کی قیام گاہ سے برآمد ہونے لاکھوں یورو اور سوڈانی پاؤنڈز کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔سابق صدر نے عدالت میں پیشی کے وقت روایتی سفید لباس (سوڈانی جلابیہ) میں ملبوس تھے اور پگڑی اوڑھ تھی۔ وہ ملزموں کے لیے مخصوص لوہے کے پنجرے سے اپنے خلاف خاموشی سے فیصلہ سنتے رہے تھے۔

ان کےخلاف غیرملکی کرنسی رکھنے کے الزام میں جون میں فردِ جرم عاید کی گئی تھی اور اپیل کی مدت گزرجانے کے بعد عدالت میں کرپشن اور غیر ملکی کرنسی رکھنے کے الزامات میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے مئی میں بتایا تھا کہ عمرالبشیر کی رہائش گاہ سے11 کروڑ 30 لاکھ ڈالرمالیت کی تین کرنسیوں میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔ پولیس، فوج اور سکیورٹی ایجنٹوں کی ایک ٹیم نےمعزول صدر کی قیام گاہ سے70 لاکھ یورو (78 لاکھ ڈالر)، ساڑھے تین لاکھ ڈالراور پانچ ارب سوڈانی پاؤنڈز برآمد کیےتھے۔

ان کے خلاف متعدد دوسرے مقدمات بھی چلائے جارہے ہیں۔ مئی میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں ان پر فرد جرم عاید کی گئی تھی۔گذشتہ منگل کے روز انھیں پراسیکیوٹرز کی ایک کمیٹی کے روبرو پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے 1989ء میں منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت برپا کرنے پر پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔ وہ اس بغاوت کے نتیجے میں برسراقتدارآئے تھے۔

عمرالبشیر اس فوجی بغاوت کے وقت بریگیڈئیر تھے۔انھوں نے اسلامی جماعتوں کی حمایت سے ایک منتخب حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا اور منتخب وزیراعظم صادق المہدی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھالیکن وہ تیس سال کی مطلق العنان حکمرانی کے بعد بھی اپنا اقتدار نہیں بچاسکے اور خود بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے تھے۔ عوام نے ان کے خلاف بغاوت برپا کردی تھی اور فوج نے 11اپریل کو ان کے اقتدار کا دھڑن تختہ کردیا تھا۔

12 نومبر کو سوڈانی حکام نے عمرالبشیر اور ان کے بعض معاونین کے خلاف 1989ء میں فوجی بغاوت برپا کرنے پر فردِ الزام عاید کی تھی۔استغاثہ نے ان سے تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔اگر وہ اس کیس میں قصور وار پاتے ہیں تو انھیں سوڈانی قانون کے تحت سزائے موت یا عمر قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

معزول صدر ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت(آئی سی سی) کو بھی ملک کے مغربی علاقے دارفور میں 2009ء میں نسل کشی ، جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں۔آئی سی سی نے ان الزامات پر ان کے خلاف 2010ء میں فرد جرم عاید کی تھی لیکن سوڈان کی عبوری حکومت انھیں آئی سی سی کے حوالے کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی ہے۔