.

عربی زبان کا عالمی دن رواں سال یونیسکو تنظیم کی نمایاں سرگرمی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو نے اعلان کیا ہے کہ عربی زبان کا عالمی دن رواں سال تنظیم کی ایک نمایاں ترین سرگرمی ہو گی۔ اس موقع پر تنظیم مصنوعی ذہانت اور عربی زبان کے درمیان ممکنہ تعلق پر روشنی ڈالے گی۔

یونیسکو کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے جانے والے اعلان کے مطابق رواں ماہ 18 دسمبر بروز بدھ عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک پروگرام منعقد ہو گا۔ پروگرام میں "عربی زبان اور مصنوعی ذہانت" کے موضوع کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔ اس مباحثے میں ماہرین، ماہر لسانیات، اکیڈمکس، فن کار اور دانش ور شریک ہوں گے۔ یونیسکو کے مطابق نشست کے مرکزی موضوع کو تین عنوانات میں تقیسم کیا گیا ہے۔ یہ عنوانات : عربی زبان کے تحفظ میں مصنوعی ذہانت کا کردار، عربی زبان کی کمپیوٹرائزیشن اور عربی زبان کا معلوماتی مستقبل ہے۔

فرانس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں اس موقع پر ایک محفل موسیقی بھی سجائی جائے گی جس میں فلسطینی فن کارہ دلال ابو آمنہ اپنے فن کا جادو جگائیں گی۔

یونسیکو کے سرکاری بیان کے مطابق رواں سال عربی زبان کا عالمی دن، تنظیم میں سعودی عرب کے وفد کے تعاون اور سلطان بن عبد العزيز آل سعود چیریٹی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منایا جا رہا ہے۔

عربی زبان کے عالمی دن اور 18 دسمبر کا تاریخی پس منظر

بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ عربی زبان کے عالمی دن کے لیے 18 دسمبر کی تاریخ کیوں مقرر کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1973 میں اس دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فیصلہ کیا تھا کہ عربی زبان کو اقوام متحدہ کی چھٹی سرکاری زبان کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ اسی واسطے ہر سال عربی زبان کا عالمی دن منانے کے لیے 18 دسمبر کا دن مقرر کر لیا گیا۔

اقوام متحدہ نے 46 برس قبل عربی زبان کو اپنی سرکاری زبانوں میں شامل کرنے کے اعلان کے موقع پر جاری بیان میں کہا تھا کہ جنرل اسمبلی "انسانی تہذیب اور ثقافت کے تحفظ اور اس کے پھیلاؤ میں عربی زبان کے اہم کردار کا ادراک رکھتی ہے"۔

اقوام متحدہ نے 2010 میں اعلان کیا تھا کہ 18 دسمبر کو عربی زبان کا عالمی دن منایا جایا کرے گا۔ اس حوالے سے یونسیکو نے 2012 میں پہلی مرتبہ سرکاری طور پر عربی زبان کا عالمی دن منایا۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ عربی زبان کی ترویج کے لیے سرکاری اور اقوام متحدہ کی سطح پر کوششیں کی جائیں۔

یونیسکو اپنے سرکاری بیان میں عربی زبان کی تخلیقی جدت کی صلاحیت کو باور کرا چکی ہے۔ یونیسکو کے مطابق "عربی زبان مختلف میدانوں میں ایسی جمالیاتی نشانیوں کی حامل ہے جو دلوں کو اسیر بنا لیتی ہیں اور عقلوں کو دنگ کر دیتی ہیں ،،، ان میں انجینئرنگ، شاعری، فلسفہ اور موسیقی و غناء شامل ہے"۔

علوم و معارف کی یورپ اور دنیا بھر میں منتقلی میں عربی زبان کا کردار

یونیسکو اس امر کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ عربی زبان نے نہ صرف علوم و معارف کے وجود میں آنے کو تحریک دی بلکہ علوم و معارف اور یونانی و رومانی فلسفوں کو براعظم یورپ منتقل ہونے میں بھی مدد گار ثابت ہوئی۔

عرب دنیا کے 40 کروڑ سے زیادہ باشندے عربی زبان بولتے ہیں۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں 1.5 عرب مسلمان مختلف حوالوں بالخصوص قرآن کریم، عبادات، سنت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اسلامی فقہ میں عربی زبان کے استعمال کے محتاج ہیں۔ مزید برآں عربی ادب کی تاریخ کا موضوع جس میں تصنیفات، سوانح حیات اور مختلف علمی شاخوں سے متعلق کتابوں اور تحریری مواد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

عربی زبان دنیا میں سب سے زیادہ پھیلی ہوئی زبانوں میں چوتھے نمبر پر ہے۔ انگریزی زبان دنیا میں سب سے زیادہ پھیلی زبانوں میں پہلے نمبر پر ہے جب کہ الفاظ کی تعداد کے لحاظ سے عربی زبان دنیا کی تمام زبانوں پر برتری اور فوقیت رکھتی ہے۔ اس کے الفاظ کی مجموعی تعداد 1.2 کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہ خصوصیت معانی کے حوالے سے عربی زبان کے مالا مال ہونے اور اظہار و وصف کے میدان میں دیگر زبانوں پر عربی زبان کی غیر معمولی برتری کی عکاس ہے۔ یہ بات عالمی سطح پر ہونے والے مختلف تحقیقی مطالعوں میں باور کرائی گئی ہے۔