.

قطری بحران کے حل سے متعلق ’’دوحہ لیکس‘‘ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش : انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ قطر کے سعودی عرب کے ساتھ تنازع کے حل سے متعلق دوحہ لیکس دراصل گروپ چار کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔

انھوں نے ہفتے کے روز سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا ہے: ’’قطر نے اس سے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس نے تین دوسرے ممالک متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین کے بغیر بھی سعودی عرب کے ساتھ اپنا تنازع طے کر لیا ہے۔اس طرح اس نے ان چاروں ممالک کے درمیان تقسیم کا بیج بونے کے لیے پرانا حربہ استعمال کرنے اور اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کی کوشش کی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ الریاض اس فائل اور دوسری علاقائی فائلوں کے معاملے میں اپنے بھائیوں کے ایک وسیع تر محاذ کی قیادت کررہا ہے۔اس (سعودی عرب) کا قطر سے مطالبات اور اپنے اتحادیوں کے بارے میں عزم ٹھوس اور ناگزیر ہے۔‘‘

قبل ازیں آج ہی قطری وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گذشتہ ڈھائی سال سے ان کے ملک اور اس کے خلیجی عرب ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے بہت تھوڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

یادرہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے جون 2017ء میں قطر کے ساتھ ہرقسم کے سیاسی ، سفارتی ، معاشی تعلقات اور ٹرانسپورٹ کے روابط منقطع کرلیے تھے۔ انھوں نے یہ اقدام قطر کی جانب سے انتہا پسند گروپوں کی حمایت کے ردعمل میں کیا تھا لیکن قطر اس الزام کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔