.

لیبی قومی فوج کا طرابلس کے مشرق میں اہم علاقوں پر کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان قومی فوج نے دارالحکومت طرابلس کے مشرق میں واقع اہم ٹھکانوں پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیبی قومی فوج کے ایک سو ستائیسویں بریگیڈ نے ہفتے کے روز یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک انفینٹری یونٹ نے اقوم متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی فورسز کے خلاف لڑائی میں اہم تزویراتی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔اس نے طرابلس سے گیارہ کلومیٹر دور واقع عین زارا کے نزدیک علاقے البیار میں شیلٹرز پر بھی کنٹرول کرلیا ہے۔

لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والےکمانڈرجنرل خلیفہ حفتر نے گذشتہ جمعرات کو اپنے زیر کمان قومی فوج کو دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے شہر میں موجود مسلح افراد کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

خلیفہ حفتر نے جمعرات کی شب ایک نشری تقریر میں کہا:’’ لیبی قومی فوج طرابلس کی جنگ میں واضح طور پر فاتح ہے۔ہم طرابلس کی جانب پیش قدمی کرنے والے یونٹوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ جنگ کے اصولوں کی پاسداری کریں۔جو جنگجو ہماری فوج کے خلاف لڑرہے ہیں، ہم ان پر زوردیتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں ہی میں رہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر وہ محفوظ ہوں گے۔‘‘

جنرل خلیفہ حفتر اپریل سے قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) کے زیر تسلط دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کررہے ہیں۔

لیبی قومی فوج نے گذشتہ ماہ ترکی اور جی این اے کی حکومت کے درمیان بحرمتوسط میں ڈرلنگ کے لیے طے پانے والی ڈیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس سمجھوتے کے دونوں فریقوں پر بحرمتوسط کے مشرقی کنارے میں واقع دوسرے ممالک کے قانونی حقوق کو ملحوظ نہ رکھنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔