.

الجزائر:انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان، نومنتخب صدرعبدالمجید تبون کی کامیابی کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کی دستوری کونسل نے صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا ہے اور ان میں ووٹ ڈالنے کی کم شرح کے باوجود نومنتخب صدر عبدالمجید تبون کی کامیابی کی تصدیق کردی ہے۔

عبدالمجید تبون نے جمعرات کو الجزائر میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں 58۰13 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔وہ معزول صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے دورِ حکومت میں ملک کے وزیر اعظم رہے تھے۔انھوں نے اپنی کامیابی کے اعلان کے بعد احتجاجی تحریک کی جانب مصالحت کا ہاتھ بڑھایا ہے اور اس کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

صدارتی انتخابات کے غیرحتمی نتائج میں ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی شرح 58۰15 فی صد بتائی گئی تھی اور اب سوموار کو جاری کردہ حتمی نتائج میں ان اعداد وشمار میں معمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔

ان کے قریب ترین حریف عبدالقادر بن قرینہ علی رہے ہیں۔ انھوں نے صرف 17۰4 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ دستوری کونسل کے اعلان کردہ حتمی نتائج کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح (ٹرن آؤٹ) 39۰88 فی صد رہی ہے۔

ان صدارتی انتخابات میں پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔دستوری کونسل ہی نے ان کے کاغذات کی مکمل جانچ پرکھ کے بعد منظوری دی تھی لیکن وہ تمام ماضی میں معزول صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ کے دور حکومت میں کسی نہ کسی عہدے پر فائز رہے تھے۔ان میں ایک اور سابق وزیراعظم علی بن فلیس علی بھی شامل تھے۔وہ 10.55 فی صد ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔

مغربی امور کی ماہر تاریخ دان کریمہ دریش نے اختتام ہفتہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 20 فی صد سے کم رہی ہے۔

صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ سے ایک روز قبل دارالحکومت الجزائر میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے شہریوں سے ووٹ نہ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔مظاہرین نے ان صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قرار دیا تھا۔ الجزائریوں نے ملک کے قبائلی علاقے میں واقع شہروں ، قصبوں اور دیہات میں بھی صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاج کیا تھا۔قبائلی بربر نسل کا آبائی علاقہ ہے۔ مظاہرین نے بعض پولنگ مراکز کو نذر آتش کردیا اور ان کے دروازے بند کردیے تھے۔

الجزائری شہری فروری سے ملک میں رائج نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کے احتجاج کے نتیجے ہی میں سابق مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو اپریل میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔وہ سابق دورِ حکومت سے اہم عہدوں پر فائز شخصیات کی موجودگی میں ملک میں نئے صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قرار دیتے رہے ہیں۔

وہ ان کے انعقاد سے قبل ملک میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے اور اہم حکومتی عہدوں پر فائز شخصیات سے مستعفی ہونے اور اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔احتجاجی مظاہرین کا یہ موقف تھا کہ موجودہ حالات میں اگر صدارتی انتخابات ہوتے ہیں تو پھر صورت حال جوں کی توں رہے گی اور کوئی حقیقی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

یادرہے کہ قبل ازیں الجزائر میں چار جولائی کو صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ان میں حصہ لینے کے لیے کوئی مناسب امیدوار سامنے نہیں آیا تھا۔اس کے بعد انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے اورملک آئینی بحران سے دوچار ہوگیا تھا کیونکہ قائم مقام سربراہ ریاست عبدالقادر بن صلاح کی نوّے روزہ مدت جولائی کے اوائل میں ختم ہوگئی تھی۔اس کے بعد پارلیمان میں ان کی نگراں حکومت کی مدت میں اضافے کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی تھی۔