سوڈان کا حزب اللہ اور حماس تنظیموں کے دفاتر بند کرنے کا ارادہ : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی اخبار The Hill کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوڈان اپنی سرزمین پر حزب اللہ اور حماس تنظیموں کے دفاتر بند کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہو گا تا کہ خرطوم پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں اور سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔

نگراں وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے یاک مقرب ذریعے کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذکورہ دونوں تنظیموں کے خلاف اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔ امریکا حزب اللہ اور حماس دونوں تنظیموں کو دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوڈان میں عبوری شہری اور عسکری حکومت مشرقی افریقا میں واقع ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی امریکی فہرست میں سوڈان کے ساتھ تین دیگر ممالک شمالی کوریا، ایران اور شام شامل ہیں۔ ان تمام ممالک پر عائد پابندیوں نے انہیں عالمی معیشت سے علاحدہ کر دیا ہے۔

سوڈان میں حماس اور حزب اللہ کے دفاتر کی بندش کے حوالے سے رپورٹیں سوڈان کے نگراں وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے واشنگٹن کے دورے کے بعد سامنے آ رہی ہیں۔ حمدوک نے یہ دورہ گذشتہ ماہ کیا تھا جس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ ان کا ملک دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد پہلی مرتبہ سفیروں کے تبادلے کے ذریعے سوڈان کے ساتھ تعلقات کی سطح بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب اٹلانٹک کونسل کے افریقی مرکز میں ایک سینئر ترین فیلو کیمرون ہڈسن کا کہنا ہے کہ "دفاتر کی بندش کی کارروائی غالبا بڑی حد تک علامتی ہو گی کیوں کہ حماس اور حزب اللہ تنظیمیں کئی برسوں سے سوڈان میں غیر فعال ہیں"۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 2017 میں سوڈان پر سے جزوی طور پر پابندیاں اٹھائی تھیں۔ ہڈسن کے مطابق اُس موقع پر عمر البشیر کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ حزب اللہ اور حماس کے لیے اپنی سپورٹ سے دست بردار ہو جائے۔

امریکی وزارت خارجہ نے 2018 میں دہشت گردی سے متعلق سالانہ تجزیے میں یہ بات کہی کہ سوڈان نے پاسداریوں کا اہتمام کیا ہے۔ ان میں نمایاں ترین پیش رفت حماس، حزب اللہ یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے اپنی سپورٹ کو روک دینا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سوڈان نے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ کام کرنے کے واسطے بعض اقدامات کیے۔

سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے اپنے واشنگٹن کے دورے کے دوران "وال اسٹریٹ جرنل" اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سوڈان دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے اپنا نام نکلوانے کے لیے مطلوب تمام پاسداریاں پوری کرنے سے چند ہفتوں کی دوری پر ہے۔

حمدوک کا کہنا تھا کہ سوڈان اس وقت امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں معلق معاملات کو حل کیا جا سکے اور دہشت گرد حملوں کا شکار ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کو زر تلافی کی ادائیگی کی جا سکے۔

مذکورہ حملوں میں 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے بم دھماکے اور 2000 میں یمن میں امریکی بحری جہاز کول پر حملہ شامل ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے(FBI) کے مطابق ان حملوں کی ذمے دار القاعدہ تنظیم ہے تاہم ایک امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سوڈان دہشت گردوں کی فنڈنگ کرتا ہے اور انہیں پناہ دیتا ہے۔ اس بنیاد پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ سوڈان ان حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے لیے 11 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم ادا کرے۔

عبداللہ حمدوک نے خرطوم میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ امریکی سرکاری ذمے داران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تا کہ ہرجانے کی رقم کم کر کے "کروڑوں" تک نیچے لائی جائے۔

امریکی وزارت خارجہ نے حزب اللہ اور حماس کے دفاتر کی بندش کے لیے سوڈان کی منصوبہ بندی کے حوالے سے The Hill اخبار کو بتایا کہ وہ دہشت گردی کے سرپرست ملک کا نام فہرست سے خارج کرنے کے عمل پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی تاہم سوڈان کے ساتھ "سرگرم بات چیت" کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں