اہم اسلامی طاقتوں کی ملائشیا کے زیراہتمام ’کوالالمپورسمٹ‘ میں عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں آج بدھ سے شروع ہونے والے مسلم اقوام کے سربراہ اجلاس میں پاکستان اور مشرقِ اوسط کی اہم طاقتیں شرکت نہیں کررہی ہیں۔سفارت کاروں کے مطابق انھوں نے کوالالمپور سمٹ میں عدم شرکت کا فیصلہ علاقائی امور پر اختلافات کی بنا پر کیا ہے۔

اس سربراہ اجلاس کا ایجنڈا ہنوز جاری نہیں کیاگیا ہے۔اس میں شریک نہ ہونے والے ممالک میں سعودی عرب ، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور مصر بھی شامل ہیں۔البتہ ابھی شرکت کرنے والے ممالک کی تفصیل سامنے نہیں ہے جس سے اندازہ ہوسکے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ستاون ممالک میں سے کون کون شرکت کررہا ہے اور کس ملک نے دعوت کے باوجود عدم شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

چار روزہ کوالالمپور سمٹ کا آج شب شریک مندوبین کے اعزاز میں عشائیے سے آغاز ہورہا ہے اور یہ ہفتے کو اختتام پذیر ہوگی۔ توقع ہے کہ ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس سربراہ اجلاس سے کلیدی خطاب کریں گے۔ایرانی صدر حسن روحانی اورامیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی بھی خطاب کریں گے۔

سفارت کاروں کے مطابق ملائشیا کے زیر اہتمام اس سربراہ اجلاس میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل و تنازعات بہ شمول مسئلہ کشمیر ،شام اور یمن میں جاری بحران ، میانمر میں روہنگیا مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک اور چین کے صوبہ سنکیانگ میں یغور مسلمانوں کو تعذیری کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان سے امتیازی سلوک پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے کوالالمپور سمٹ میں اپنے عدم شرکت کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دنیا کے ایک ارب 75 کروڑ مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک غلط فورم ہے۔ ایسے مسائل پر اسلامی تعاون تنظیم کے فورم ہی پر بات چیت کی جانا چاہیے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کے روز ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور ان سے گفتگو میں مملکت کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ ایسے ایشوز پر صرف او آئی سی کے پلیٹ فارم ہی سے بات چیت کی جانا چاہیے۔

ملائشیا کے وزیراعظم کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق اس کانفرنس میں شرکت کے لیے او آئی سی کے تمام ستاون ممالک کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے لیکن ان میں سے صرف بیس کے لگ بھگ شرکت کررہے ہیں اور ان میں سے بھی چند ایک سربراہان ریاست وحکومت کی شرکت متوقع ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈاکٹر مہاتیر بعض غلط اطلاعات کی درستی بھی کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ بعض میڈیا ذرائع میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر کے بہ قول کوالالمپور سمٹ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا متبادل پلیٹ فارم ہوگی۔انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔‘‘

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان سے کوئی بھی عہدہ دار اس سمٹ میں شرکت نہیں کرے گا۔اس کانفرنس میں 52 ممالک سے تعلق رکھنے والے 400 سے زیادہ مسلم لیڈر ، دانشور ، اسکالر اور مفکرین شرکت کررہے ہیں۔19 دسمبر کو شریک ممالک کے سربراہان ریاست و حکومت کا اجلاس ہوگا اور اس میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سمٹ کی تجویز اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ،ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان سہ فریقی ملاقات کے موقع پر پیش کی گئی تھی۔ اس نئے فورم کے قیام کے لیے ترک صدر ایردوآن اور ڈاکٹر مہاتیر محمد پیش پیش رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں