فصاحت و بلاغت سے مالا مال عربی زبان کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اقوام متحدہ نے ہر سال عربی زبان کا عالمی دن منانے کے لیے 18 دسمبر کا دن مقرر کیا۔ اس تاریخ کا چُناؤ کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ 1973 میں اسی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عربی زبان کو اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل کیا۔ اقوام متحدہ کی دیگر سرکاری زبانوں میں انگریزی، چینی، ہسپانوی، فرانسیسی اور روسی شامل ہے۔

تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو نے اعلان کیا ہے کہ عربی زبان کا عالمی دن رواں سال تنظیم کی ایک نمایاں ترین سرگرمی ہو گی۔ اس موقع پر تنظیم مصنوعی ذہانت اور عربی زبان کے درمیان ممکنہ تعلق پر روشنی ڈالے گی۔

یونیسکو کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے جانے والے اعلان کے مطابق آج 18 دسمبر بروز بدھ عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک پروگرام منعقد ہو رہاہے۔ پروگرام میں "عربی زبان اور مصنوعی ذہانت" کے موضوع کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔ اس مباحثے میں ماہرین، ماہر لسانیات، اکیڈمکس، فن کار اور دانش ور شریک ہوں گے۔ یونیسکو کے مطابق نشست کے مرکزی موضوع کو تین عنوانات میں تقیسم کیا گیا ہے۔ یہ عنوانات : عربی زبان کے تحفظ میں مصنوعی ذہانت کا کردار، عربی زبان کی کمپیوٹرائزیشن اور عربی زبان کا معلوماتی مستقبل ہے۔

فرانس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں اس موقع پر ایک محفل موسیقی بھی سجائی جائے گی جس میں فلسطینی فن کارہ دلال ابو آمنہ اپنے فن کا جادو جگائیں گی۔

یونسیکو کے سرکاری بیان کے مطابق رواں سال عربی زبان کا عالمی دن ،،، تنظیم میں سعودی عرب کے وفد کے تعاون اور سلطان بن عبد العزيز آل سعود چیریٹی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منایا جا رہا ہے۔

عربی زبان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ بہت سے محققین اسے سامی زبانوں کے مجموعے سے منسوب کرتے ہیں اور عربی کو سامی زبانوں کی ماں قرار دیتے ہیں۔ محققین اس امر کو ترجیح دیتے ہیں کہ عربی زبان سامی زبانوں میں سب سے پرانی زبان ہے۔

فصاحت و بلاغت کی حامل عربی زبان ابھی تک محققین اور مستشرقین کے لیے کھوج کا میدان بنی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ عربی زبان کے الفاظ کی بڑی تعداد ہے جو 1.2 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح عربی زبان کے مختلف لہجے بھی دل چسپی اور جستجو کا اہم پہلو ہے۔ آج تقریبا 1.5 ارب اندان کسی نہ کسی طور یہ زبان بولتے ہیں۔ عربی زبان نے انسانیت کو ایسا ادبی ورثہ پیش کیا ہے جس کی مثال کسی دوسری زبان میں نہیں ملتی۔ تالیفات کے حجم کے لحاظ سے بھی عربی زبان دنیا کی دیگر زبانوں پر برتری رکھتی ہے۔ عربی زبان کا روایتی لغوی کتب خانہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے لغوی ذخیرے میں سے ایک ہے۔

عرب، مسلمان اور مستشرق محققین کے نزدیک عربی زبان کو محفوظ رکھنے اور اسے پھیلانے میں قرآن کریم کا قطعی طور پر یکتا کردار ہے۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ عربی نحو (گرامر) کے بارے میں پہلی کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے تقریبا دو سو سال بعد سامنے آئی۔ یہ عمرو بن عثمان بن قنبر (متوفی 180 ہجری) عُرف سیبویہ کی تالیف "الكتاب" ہے۔

اسی طرح عربی زبان کی پہلی لغت جو کتاب العین کے نام سے معروف ہے۔ اس کو خلیل بن احمد الفراہیدی (متوفی 170 ہجری) نے مرتب کیا تھا۔ دوسری صدی ہجری سے تیسری صدی ہجری کے درمیان وسیع پیمانے پر عربی زبان کی تصنیفات اور تالیفات نے جنم لیا۔ اس طرح عربی کی تالیف عرب اور عجم میں دانش ور اشرافیہ کی ایک اہم خصوصیت بن گئی۔

جزیرہ عرب میں شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی عربوں کی زندگی کے تنوع نے عربی زبان کو متنوع بنانے میں کردار ادا کیا۔ اس کے سبب عربی زبان کے لہجے وجود میں آئے تاہم فصیح عربی زبان اپنے اعلی ترین معیار کے سبب ہمیشہ بلند ترین مقام پر رہی۔ یہ بات شیخ عبدالرحمن جلال الدین السیوطی (849 ہجری سے 911 ہجری) نے اپنی کتاب "المزهر في علوم اللغة وأنواعها" میں کہی۔

عربی زبان کا کردار ادب ، تاریخ اور سائنس کی اُن کتابوں کے جنم لینے تک محدود نہیں رہا جس کا آغاز بغداد اور اندلس کی ترقی کے ساتھ ہوا تھا ... بلکہ عربی زبان نے فلسفے، سائنس، ریاضیات اور قدیم فلکیات سے متعلق علوم کی حفاظت میں وساطت کا کردار بھی ادا کیا۔ اقوام متحدہ نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔ اس کی ذیلی تنظیم یونیسکو اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ عربی زبان نے نہ صرف علوم و معارف کے وجود میں آنے کو تحریک دی بلکہ علوم و معارف اور یونانی و رومانی فلسفوں کی براعظم یورپ منتقلی میں بھی مدد گار ثابت ہوئی۔ کسی بھی زبان کے لیے یہ ایک دشوار امر ہے کہ وہ اس بھاری عالمی ثقافتی بوجھ کو اٹھائے اور پوری دیانت داری کے ساتھ علوم و فنون کو ایک تہذیب سے دوسری تہذیب کے حوالے کرے۔

دوسری صدی ہجری کے اواخر سے لے کر چوتھی صدی ہجری کے درمیان عربی زبان میں تالیف، تصنیف، ادب اور شاعری کے میدان میں وسیع پیش رفت دیکھی گئی۔ البتہ 15 ویں صدی عیسوی میں عرب علاقوں میں عثمانی سلطنت کے آغاز کے بعد 18 ویں صدی عیسوی کے اواخر تک کے زمانے کو عرب ادب کی تاریخ کا بدترین دور شمار کیا جاتا ہے۔ اس دوران عربی زبان میں علوم و فنون کا توسیعی سفر جمود کا شکار ہو گیا۔

عثمانی دور کا مطالعہ کرنے والوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ زمانہ عربی ادب کے انحطاط کا دور تھا۔ 18 ویں صدی عیسوی میں اس رجحان سے خلاصی کا آغاز ہوا اور عربی زبان کے نئے مکاتب فکر نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ یہ مغربی رومانوی ادب سے متاثر تھے۔ بعد ازاں عربی زبان کا یہ تجربہ احیاء سے تجدید کی جانب منتقل ہوا اور پھر جدیدیت تک پہنچا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں