ٹرمپ انتظامیہ آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی تسلیم کرنے سے انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ 1915ء میں پہلی عالمی جنگ کے دوران میں ترک فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی خیال نہیں کرتی ہے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے چند روز قبل ہی ایک قرار داد کے ذریعے عثمانی ترکوں کی فوج کے ساتھ لڑائی میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے لاتعلق کا اظہار کیا ہے اور ایک طرح سے اس نے ترکی کو لبھانے کی کوشش کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن اورٹاگس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ انتظامیہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ہمارے نقطہ نظر کے غماز صدر کے گذشتہ اپریل سے جاری کردہ واضح بیانات ہیں۔‘‘

اس قتل عام کی برسی کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا بیسویں صدر کے بدترین قتل عام کے متاثرین کوخراج عقیدت پیش کرتا ہے لیکن انھوں نے اس بیان میں نسل کشی کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔اس کے بجائے انھوں نے آرمینیا اور ترکوں پر زوردیا تھا کہ وہ اپنی دردناک تاریخ کو تسلیم کریں اور اس پر غور کریں۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کی فوج نے پہلی عالمی جنگ کے دوران میں پندرہ لاکھ افراد کا قتلِ عام کیا تھا۔اس کا مقصد مسیحی نسلی گروپ کی تطہیر تھا جبکہ ترکی پہلی عالمی جنگ میں ہلاک شدہ آرمینیائی باشندوں کی بہت کم تعداد بتاتا ہے اور وہ نسل کشی کی اصطلاح کو بھی مسترد کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس عالمی جنگ میں ترک بھی مارے گئے تھے۔

ترک وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے انقرہ میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو طلب کیا تھا اور ان سے ایوان نمایندگان کے بعد سینیٹ میں ترکی مخالف دو قرار دادوں کی منظوری پر احتجاج کیا تھا۔ان میں ایک صدی قبل پہلی عالمی جنگ میں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیا گیا تھا اور ترکی کے خلاف شام میں چڑھائی پر پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایوان نمایندگان اور سینیٹ نے پہلی عالمی جنگ میں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دینے کی قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دی تھی۔اس کی منظوری کے بعد امریکا اور ترکی کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسی تناؤ میں کمی کی کوشش کی ہے۔

کانگریس کی منظور کردہ اس قرارداد میں کہا گیا تھا:’’ یہ امریکا کی پالیسی ہے کہ آرمینیائی نسل کشی کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کو منایا جائے۔‘‘ لیکن یہ قراردادیں کانگریس کے منظور کردہ کسی قانون ایسی اہمیت کی حامل نہیں ہیں اور ان کا قانون کی طرح طاقت کے ذریعے نفاذ نہیں کیا جاسکتا۔نیز ان کے لیے صدر کے دست خط کی بھی ضرورت نہیں۔

یادرہے کہ امریکا کے سابق صدر براک اوباما نے بہ طور امیدوار انتخابی مہم کے دوران میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ منتخب ہونے کی صورت میں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی تسلیم کریں گے لیکن اپنی جیت کے بعد انھوں نے اس اصطلاح کو استعمال نہیں کیا اور اس کے بجائے ان کا کہنا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں آنے سے قبل کے مؤقف اور نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پہلی عالمی جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کی فوج کے ساتھ جنگ میں بہت سے آرمینیائی باشندے ہلاک ہوگئے تھے لیکن وہ انھیں ایسے منظم انداز میں قتل کرنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے جنھیں مغرب کی اصطلاح میں نسل کشی قرار دیا جا سکے۔ مغربی ممالک ایک عرصے سے آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں