کیا ترکی میں ایردوآن کی استبدادی آمریت کے خاتمے کے لیے حالات سازگار ہیں؟

اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے ایردوآن میڈیا کا گلا گھونٹ رہے ہیں: واشنگٹن پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ترکی کے جاری سیاسی حالات کا مشاہدہ کرنے سے دو طرح کے سیاسی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف صدر رجب طیب ایردوآن اوران کا استبدادی نظام حکومت ہے۔ وہ اپنے اقتدار کی بقاء اور عہدے کے دفاع کے لیے ہرممکن حربے استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا پر کنٹرول کرنے کے بعد ترکی میں ان کی ہرتقریر اور سیاسی سرگرمی کو براہ راست ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف حکومت نواز میڈیا یا دبائو کا شکار ابلاغی اداروں کے لیے اپوزیشن کی سرگرمیوں کی کوریج 'شجر ممنوعہ' بن چکا ہے۔

حال ہی میں اپوزیشن رہ نما اور ایردوآن کے سابق ساتھی اور سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلو نے شرکاء سے کھچا کھچ بھرے ہال میں اپنی نئی جماعت کا اعلان کیا۔ ایردوآن کی استبدادیت کے نتیجے میں احمد دائود اوگلو کے پارٹی کے تاسیسی اجلاس کی کوئی خبرمیڈیا پر نشر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ میں یورپی کونسل برائے تعلقات عامہ کے ایک سیاسی تجزیہ کار اورمحقق اسلی ایڈنتاسپاس کا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس طویل آرٹیکل میں یورپی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ طیب ایردوآن اپنے استبدادی نظام کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کو خود ہی تباہ کرنے اور اپنے سیاست کی تباہی کی راہ پر چل رہے ہیں۔

ترکی کے سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلو قدامت پسند حلقوں میں کافی مقبول رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ اوگلو ایردوآن کے استبدادی اور آمرانہ نظام کے خاتمے کے چیلنج کو لے کرآگے بڑھ رہے ہیں۔ سیاست کے میدان میں دائود اوگلو نو آموز نہیں۔ حال ہی میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے سخت الفاظ میں تقریرکرتے ہوئے اوگلونے قانون کی حکمرانی کی بحالی ،جبرو استبداد پر مبنی سیاست کے خاتمے، پارلیمان کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

"واشنگٹن پوسٹ" میں شائع مضمون میں لکھا گیا ہے کہ اردوآن کی سربراہی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی"آق" میں خدمات انجام دینے کے دوران دائود اوگلو نے خارجہ پالیسی کے مشیر اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے موثر کردار ادا کیا۔

آخرکار انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ سنہ 2016ء میں دائود اوگلو اور ایردوآن کے درمیان سنہ 2016ء میں اختلافات پیدا ہوئے۔ ایک دانشورکی حیثیت سے وہ ترکی میں عوامی اقتدار کےحامی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے پرزور حامی ہیں۔ انہوں وزارت عظمیٰ کے دور میں کئی اہم اصلاحات لانے کی کوشش کی۔ یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کی کوشش کی۔ سنہ 2002ء سے 2012ء تک ترکی میں اصلاحات کا اہم دور گذرا ہے

یوروپی یونین کی ممبرشپ کے حصول میں پیشرفت کرنے اور اقتدارمیں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اقتدارکی پہلی دہائی کے دوران دوستانہ علاقائی تعلقات قائم کرنے کے علاوہ ، خاص طور پر 2002 سے 2012 تک مقامی سطح پراصلاحات کے دور میں داخل ہونے میں مدد ملی۔

اسلی ایڈنتاسپاس نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ تُرکی میں لبرل دانشور دائود اوگلو ایردوآن کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں لیکن وہ اس حقیقت پر توجہ نہیں دیتے کہ ترکی صرف شہری لبرلز ریاست تک محدود ملک نہیں ہے ، بلکہ سنی قدامت پسند سیاسی تبدیلی کا مرکزی آبادیاتی حصہ ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ مرکزی سیکولر حزب اختلاف سی ایچ پی یا ایچ ڈی پی کرد پارٹی کا ووٹر یا سیاسی حامی ہے۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نقطہ ہی ترکی میں انتخابی مساوات کو بدل سکتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اردوآن کی حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور 51 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فی الحال ، یہ شرح 30 فیصد سے تجاوز نہیں کرتی ہے۔ گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں 'آق' پارٹی بلدیاتی انتخابات میں کئی شہروں میں جیتنے کے باوجود استنبول کی میئر شپ ہار گئی اور طیب ایردوآن کا تا حیات صدر رہنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔

مضمون میں ترکی میں سیاسی تبدیلیوں کی ماضی کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ مثال کے طور پرسنہ 1908ء نوجوان ترکوں کی زیرقیادت ایک وسیع اتحاد نے 32 سالہ سلطان عبد الحمید دوم کی حکمرانی کا تختہ پلٹ دیا۔ عبدالحمید دوم اور طیب ایردوآن میں کافی مماثلت ہے۔سنہ 1950ء میں ڈیموکریٹک پارٹی نے عصمت انونو کی جابرانہ حکومت کےخلاف زبردست فتح حاصل کی۔ رائے دہندگان نے 1965 کے انتخابات میں جسٹس پارٹی کا انتخاب کرکے ترکی کے وزیر اعظم عدنان مندیرس کو فوجی بغاوت کے بعد پھانسی دینے والی حکومت کو سزا دی۔ اس فہرست میں بہت ساری مثالیں شامل ہیں ، کیونکہ ترک مشکل وقت میں سخت ریاستی اتھارٹی کو برداشت کرسکتے ہیں مگر جبرو تشدد کی سیاست کے خلاف مزاحمت ان کی سرشت میں شامل ہے۔

آسلی ایڈنتاسپاس لکھتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آئندہ جمہوری اصلاح کب ہو سکتی ہے۔ انتخابات 2023 کو ہونے ہیں لیکن زیادہ تر سیاستدان توقع کرتے ہیں ترکی میں تبدیلی اب بہت جلد آنے والی ہے۔ اگلے مہینے علی بابا جان جو اپنے عروج کے سالوں کے دوران ترک معیشت کو چلاتے رہے ہیں اپنے نئے سیاسی پلیٹ فارم کی رونمائی کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں