.

’کچھ بھی غلط نہیں کیا‘: صدر ٹرمپ کی مواخذے پر ایوان نمایندگان میں ووٹ سے قبل ٹویٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمایندگان میں اپنے خلاف مواخذے کی دو دفعات پر رائے شماری سے قبل کہا ہے کہ انھوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔وہ امریکا کے تیسرے صدر ہیں جن کا ایوان نمایندگان میں مواخذہ کیا جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ کیا آپ یہ یقین کرسکتے ہیں کہ آج ریڈیکل بائیں بازو کی جانب سے میرا مواخذہ کیا جائے گا، ڈیمو کریٹس کچھ نہیں کرتے اور میں نے بھی کچھ غلط کام نہیں کیا ہے۔(اگر ایسا ہوتا تو) یہ ایک خطرناک چیز ہوتی۔‘‘

امریکی صدر کا یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش پر مواخذہ کیا جارہا ہے۔ایوان نمایندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی نے گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی یوکرین سے معاملہ کاری کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی۔انھوں نے یوکرین پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے حریف اور امریکا کے سابق نائب صدر جوزف بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرے۔

جو بائیڈن 2020ء میں امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نامزدگی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کے مدمقابل ہوں گے۔

ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے انٹیلی جنس کمیٹی کی اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد کہا تھا کہ ’’حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو موخر کرنے اور امداد روکنے کے بدلے میں اپنے ایک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے اعلان کے لیے دباؤ کا حربہ استعمال کیا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ ایوان نمایندگان کی عدلیہ کمیٹی نے تین آئینی ماہرین کی سماعت کی تھی اور انھوں نے یہ رائے دی تھی کہ صدر ٹرمپ قابل مواخذہ فعل کے مرتکب ہوئے تھے۔ان تینوں ماہرین کو ڈیموکریٹس نے بلوایا تھا۔ری پبلکن ارکان کے ایک چوتھے آئینی ماہر کو لے کر آئے تھے اور اس نے ڈیموکریٹس کی قیادت میں مواخذے کی انکوائری کو عاجلانہ اور نقائص سے بھرپور قرار دیا تھا۔

امریکی صدر نے یوکرین پر زوردیا تھا کہ وہ اس ازکارِ رفتہ تھیوری کی بھی تحقیقات کرے کہ 2016ء میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس نے نہیں، بلکہ یوکرین نے مداخلت کی تھی۔

ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ پر یہ الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے ملک کو امریکا کی جانب سے ملنے والی 39 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد روک لی تھی اور ان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کروائیں۔صدر ٹرمپ اس معاملے میں پہلے بھی کسی غلط روی سے انکار کرچکے ہیں۔انھوں نے اپنے خلاف مواخذے کی تحقیقات کو ایک ڈھونگ قراردیا تھا۔