الجزائر:نومنتخب صدرعبدالمجید تبون کی حلف برداری، نیا آئین بنانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

الجزائر کے نومنتخب صدر عبدالمجید تبون نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔چوہتر سالہ نئے صدر سابق وزیراعظم ہیں اوروہ الجزائر کے طاقتور آرمی چیف کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

عبدالمجید تبون نے 12 دسمبر کو الجزائر میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے 58۰13 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔انھوں نے جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد تقریر میں کہاکہ وہ الجزائر کے نئے آئین کی تدوین کے لیے مشاورت کا عمل شروع کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ نئے آئین میں صدر کی مدت صرف دو مرتبہ تک محدود کردی جائے گی۔انھوں نے معیشت کو متنوع بنانے اور کرپشن کے خلاف جہاد کا عزم کیا ہے۔صدر تبون نے اپنی پہلی تقریر کے بعد آرمی چیف احمد قاید صالح سے معانقہ کیا اور انھیں میرٹ میڈل سے نوازا ہے۔

انھوں نے اپنے انتخاب کے بعد کہا تھا کہ وہ مظاہرین سے بات چیت کو تیار ہیں اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں گے۔ بدعنوانی براعظم افریقا کے اس بڑے ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

الجزائر میں فروری سے جاری احتجاجی تحریک نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور انھیں حکمران اشرافیہ کا اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے ایک ڈھونگ قراردیا تھا۔اس تحریک نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو بھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

ہزاروں الجزائری شہری فروری سے ملک میں رائج نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کے احتجاج کے نتیجے ہی میں سابق مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو اپریل میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔وہ سابق دورِ حکومت سے اہم عہدوں پر فائز شخصیات کی موجودگی میں ملک میں نئے صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قرار دیتے رہے ہیں۔

وہ صدارتی انتخابات سے قبل ملک میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے اور اہم حکومتی عہدوں پر فائز شخصیات سے مستعفی ہونے اور اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔احتجاجی مظاہرین کا یہ موقف تھا کہ موجودہ حالات میں اگر صدارتی انتخابات ہوتے ہیں تو پھر صورت حال جوں کی توں رہے گی اور کوئی حقیقی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

گذشتہ دس ماہ سے احتجاجی تحریک میں شریک ایک چوبیس سالہ نوجوان سلمان حشود کا کہنا تھا کہ ’’تبون میرے صدر نہیں ہیں،وہ احتجاجی تحریک (حرک) کے نمایندہ نہیں ہیں،اس لیے ان کا انتخاب قانونی جواز کا حامل نہیں۔جب تک عوام فیصلہ ساز نہیں بن جاتے ہیں، اس وقت تک احتجاجی مظاہرے جاری رکھے جائیں۔‘‘

ان صدارتی انتخابات کے بعد بھی جمعہ اور منگل کے روز ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے جاری ہیںاور یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ مغربی شہر وھران میں پولیس نے مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ اس احتجاجی تحریک کا کوئی ایک لیڈر نہیں ہے اور مظاہرین سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جلسے جلوسوں کو منظم کررہے ہیں۔ان میں طلبہ ، سماجی کارکنان اور مزدور یونینوں کے کارکنان شامل ہیں۔انھوں نے نئے صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔عبدالجبار نامی ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ’’ ہم بحران کے خاتمے کے لیے مکالمے اور مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن جب تک عبدالمجید تبون تمام گرفتار شدگان کو رہا نہیں کردیتے ،اس وقت تک ہم ان کی جانب ہاتھ نہیں بڑھائیں گے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں