کیا روس سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو بشار کی فوج میں ضم کرنا چاہتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دمشق میں شامی حکومت کے زیر انتطام ملٹری سیکورٹی نے "دار الشعب" کے نام سے معروف کرد ادارے کو بند کر دیا ہے۔ یہ ادارہ شام کے شمال اور مشرقی علاقوں میں کردوں کی "خود مختار انتظامیہ" کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔ شامی دارالحکومت میں وادی المشاریع کے علاقے میں کُردوں کے امور سے متعلق اس ادارے کی بندش کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

دوسری جانب کرد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ "دار الشعب ادارے کی بندش کی وجوہات کا تعلق روس اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان جاری حالیہ بات چیت سے ہے۔ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مزید بتایا کہ روس کی جانب سے بشار حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو شامی حکومت کی فوج میں ضم کیا جائے جب کہ بشار حکومت اس امر کو مسترد کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق دمشق میں بشار حکومت کو بڑے اندیشے لاحق ہیں۔ وہ شمالی شام میں روسی پولیس اور ایس ڈی ایف کے درمیان جاری عسکری تعاون پر تشویش کا شکار ہے۔ بشار حکومت ایس ڈی ایف کو اپنی عسکری فورسز کے لیے حریف شمار کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بشار حکومت دریائے فرات کے مشرق میں ترکی کی سرحد کے ساتھ علاقوں میں ایس ڈی ایف کے متبادل کے طور پر اپنی فورسز تعینات کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔

دمشق کے علاقے وادی المشاریع میں اکثریت شامی کردوں کی ہے جن میں زیادہ تعداد تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں ملک کے شمال سے آئی ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ دمشق کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے وہ کرد بھی ہیں جو یہاں طویل برسوں سے سکونت پذیر ہیں۔

شام میں آٹھ برس سے جاری جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی کردوں نے حلب اور دمشق میں اپنے قیام کے علاقوں پر سیکورٹی کی گرفت مضبوط بنا لی۔ تاہم دمشق میں بشار کی فوج کے دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد کرد عناصر مختلف علاقوں سے پیچھے ہٹ گئے۔

حلب میں کئی علاقوں پر اس وقت کرد یونٹوں کا کنٹرول ہے۔ یہاں انہوں نے چیک پوائنٹس بھی قائم کر رکھی ہیں۔

اسی طرح عین العرب (كوبانی)، قامشلی اور حسکہ بھی کردوں کے وجود کے حوالے سے مرکزی مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ شہروں میں کردوں نے 2012 کے وسط سے "خود مختار انتظامیہ" تشکیل دے رکھی ہے۔ یہ پیش رفت مقامی عرب قبائلی حلیفوں کے تعاون سے سامنے آئی تھی۔ البتہ بعض دیگر شہروں پر ترکی کے فوجی حملوں کے بعد کردوں کا کنٹرول ختم ہو گیا۔ ان میں عفرين، تل ابيض اور راس العین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں