.

فیس بک کے 26.7 کروڑ صارفین کے نام اور فون نمبر افشا ہونے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر جاری اُس رپورٹ کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جس میں فیس بک کے 26.7 کروڑ صارفین کے نام اور ٹیلی فون نمبر آن لائن افشا ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

انگریزی ویب سائٹ Comparitech پر ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق مذکورہ معلومات پر مشتمل ڈیٹا بیس گذشتہ ہفتے ایک الکٹرونک ہیکر کے فورم پر ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب تھا۔

فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم اس معاملے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ہمارے نزدیک غالب گمان یہ ہے کہ ان معلومات کو فیس بک پر اُن تبدیلیوں سے قبل حاصل کیا گیا جو ویب سائٹ کی انتظامیہ نے گذشتہ چند برسوں کے دوران لوگوں کی ذاتی معلومات کو زیادہ محفوظ بنانے کے واسطے کیں"۔

بلاگ پوسٹ کے مطابق ایک انٹرنیٹ سیکورٹی ریسرچر بوب ڈیاشنکو نے اس ڈیٹا بیس کا انکشاف کیا جو انٹرنیٹ پر کھلے عام دستیاب تھا۔ اس میں فیس بک کے صارفین کے نام ، یوزر آئی ڈیز اور فون نمبر موجود تھے۔ اس انکشاف کی اطلاع آگے پہنچائی گئی جس کے بعد جمعرات کے روز تک یہ ڈیٹا بیس انٹرنیٹ سے غائب ہو چکا تھا۔

اس مسروقہ معلومات کا انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سماجی رابطے کی دنیا کا ضخیم نیٹ ورک (فیس بک) اپنے صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے اپنے صارفین کے اندیشوں کو کم کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

امریکی ریگولیٹرز نے رواں ماہ کے دوران بتایا تھا کہ فیس بک کے ڈیٹا کی چوری سے متعلق ایک بڑے اسکینڈل میں ملوث برطانوی مشاورتی فرم Cambridge Analytica نے سوشل میڈیا صارفین کی ذاتی معلومات اکٹھا کرنے کے لیے انہیں دھوکا دیا۔

اس معاملے نے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے اُس وقت ایک طوفان برپا کر دیا جب یہ بات سامنے آئی کہ Cambridge Analytica کمپنی فیس بک صارفین کا ڈیٹا استعمال میں لا کر psychological profiles تیار کرنے کے قابل تھی۔

یاد رہے کہ صارفین کی ذاتی معلومات کے حوالے سے بد انتظامی کے ارتکاب کی پاداش میں فیس بک نے رواں سال کے آغاز میں ریگولیٹرز کے ساتھ تصفیے کی مد میں 5 ارب ڈالر کا ریکارڈ جرمانہ ادا کیا تھا۔