.

لیبیا کی فوج کی مصراتہ میں وفاق کی ملیشیاؤں کے 20 ٹھکانوں کو بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے ذرائع نے جمعرات کی شب بتایا ہے کہ لیبیا میں (فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت) قومی فوج نے مصراتہ شہر میں وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے 20 ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔

لیبیا کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے مصراتہ میں فضائی اکیڈمی پر بم باری کی جب کہ شہر کے جنوب میں بھی فضائی یلغار کے نتیجے میں فضائی دفاعی کیمپ متعدد دھماکوں سے گونج اٹھا۔

اس دوران ذرائع نے بتایا کہ لیبیا کی فوج اور وفاق کی ملیشیاؤں کے درمیان طرابلس کے جنوب میں واقع علاقے وادی الربیع میں گھمسان کی لڑائی ہوئی۔

لیبیا کی فوج کے ایک عسکری ذریعے نے بتایا کہ فوج دارالحکومت طرابلس کے سب سے بڑے محلے ابو سلیم میں داخل ہو چکی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں مذکورہ ذریعے نے واضح کیا کہ لیبیا کی فوج نے مسلح ملیشیاؤں پر تابڑ توڑ حملوں کے بعد ہوائی اڈے کے راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ بعد ازاں فوج نے پیش قدمی جاری رکھی اور طرابلس کے قلب میں واقع علاقے میں داخل ہو گئی۔ لیبیا کی فوج کی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا کہ کارروائی میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور آبادی والے علاقوں میں بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کا استعمال نہ کیا جائے تا کہ شہریوں کی جانوں اور املاک عامہ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اسی عسکری ذریعے کے مطابق لیبیا کی فوج نے دارالحکومت طرابلس کے علاوہ دو شہروں مصراتہ اور سرت کے گرد سیکورٹی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

طرابلس میں مسلح جھڑپوں کا دائرہ ابو سلیم کے علاقے تک پہنچنے کے بعد علاقے کی بلدیہ نے جمعرات کے روز ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ علاقے میں سرکاری اور نجی سیکٹر کے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی سلسلہ روک دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔