عالمی عدالت انصاف کا اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا اعلان

فلسطین کا خیر مقدم، صہیونی حکومت حواس باختہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی فوجداری عدالت 'آئی سی سی' کی پراسیکیوٹر 'فاتوؤ بینسودا' نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ عالمی عدالت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کے الزامات کی مکمل تحقیقات کا جلد آغاز کرےگا۔ ان تحقیقات میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں پرعاید الزامات کی چھان بین شامل ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نےعالمی عدالت انصاف کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اس اعلان کو حق اور انصاف کے لیے یوم سیاہ قرار دیا۔

بینسوڈا نے ایک بیان میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مغربی کنارے بہ شمول مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی درخواست پر وہ براہ راست تحقیقات شروع کرسکتی ہیں۔ اس کے لیے عدلیہ کی منظوری کی ضرورت نہیں۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر فاتوؤ بینسودا کے جمعہ کے روز اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

درایں اثنا فلسطین نیوز ایجنسی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی جرائم کے کیسز کی پیروی کرنےوالی فالو اپ کمیٹی کے سربراہ صائب عریقات کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی تحقیقات کروانے کا فیصلہ ایک مثبت اور حوصلہ افزا اقدام ہے۔ یہ اقدام فلسطینی عوام کے لیے امید کا پیغام ہے کہ انصاف کا حصول ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین عالمی عدالت کو ہرطرح کی مدد اور تعاون فراہم کرے گا۔

اس کے برعکس اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرنے کا "اختیار" نہیں ہے۔ انہوں نے اسے "سچائی اور انصاف کے لیے سیاہ دن" قرار دیا۔

نیتن یاھو نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس معاملے میں عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔عدالت کو صرف خودمختار ریاستوں سے درخواستوں کی سماعت کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن فلسطینی ریاست خود مختار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں