لیبیا پر ترکی کی چڑھائی کا پوری قوت سے مقابلہ کریں گے: المسماری

قومی وفاق حکومت کو تمام شہر 72 گھنٹے میں خالی کرنے کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے جمعہ کی شام ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مصراتہ میں موجود ملیشیائیں لیبیا میں ترکی کی مداخلت کی راہ ہموار کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم لیبیا پر ترکی کی یلغار کو مسترد کرتے ہیں اور پوری قوت سے اس کا مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی بندرگاہوں کے راستے لیبیا میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران جنرل المسماری نے نقشے کی مدد سے بتایا کہ ترکی کس طرح لیبیا میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے 'داعش' اور 'النصرہ' کے دہشت گرد لیبیا میں داخل کردیئے ہیں، اب ترکی براہ راست اپنی فوج کے ذریعے لیبیا کی جنگ میں شریک ہے۔

ادھرمحاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کےمطابق جنرل خلیفہ حفتر کی زیر کمان فوج کی طرابلس کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔ فوج کے ترجمان جنرل المسماری نے کہا ہے کہ مصراتہ میں خطرناک اہداف کی نشاندہی کے بعد ہم نے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصراتہ میں ملیشیائوں کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔ ہم نے میزائلوں کا ایک اڈہ، ریڈارسسٹم اور دیگر جنگی آلات تباہ کرنے کے ساتھ بڑی تعداد میں جنگجو ہلاک کردیے ہیں۔

انہوں نے خبر دار کیا کہ کوئی ملک قومی فوج کو طرابلس میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا۔ اگر کسی ملک نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

قبل ازیں جمعہ کی صبح نیشنل آرمی نےمصراتہ ، طرابلس اور سرت میں موجود ملیشیائوں کو 72 گھنٹے کے اندر اندر شہر چھوڑںے کا حکم دیا تھا۔

جنرل المسماری نے دھمکی دی کی اگر دہشت گرد ملیشیائوں نے شہر خالی نہ کیے تو سرت، طربلس اور مصراتہ میں ان کے ایک ایک ٹھکانے پر بمباری کی جائے گی۔

جنرل المسماری کا کہنا تھا کہ مہلت کے دوران ہم ملیشیائوں پر بمباری نہیں کیں گے اور مہلت ختم ہونے کے بعد ان کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں