.

ایران کے خلاف امریکا کی پابندیاں ’فضول نشہ‘ ہیں: وزیر خارجہ جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ملک کے خلاف امریکا کی پابندیوں کو ایک ’فضول نشہ‘ (مشق) قرار دے دیا ہے۔

انھوں نے اتوار کے روز ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’امریکا کی پابندیوں کی حکمتِ عملی غیر دانش مندانہ اور ایک فضول ’’نشہ‘‘ ہے۔امریکا کی اس حالت کی کوئی سرحد یا سرحدیں نہیں کہ وہ کیا کرے یا کیا نہ کرے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں:’’ نشے کی عادت والا یہ کردار دوستوں اور دشمنوں، دونوں کویکساں متاثر کرتا ہے۔الّا یہ کہ اس کو اجتماعی طور پر پیچھے دھکیل دیا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ سال مئی میں جولائی 2015ء میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔اس کے بعد سے ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

امریکا نے حال ہی میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے تعلق رکھنے والے نو افراد اور ایک ادارے پر پابندیاں عاید کی تھیں۔ان میں ان کا چیف آف اسٹاف،ایک بیٹا اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

محکمہ خزانہ کی پابندیوں کے تحت کوئی بھی امریکی ادارہ یا فرد ان ایرانی شخصیات اور اداروں کے ساتھ کوئی کاروباری لین دین نہیں کرسکے گا اور ان کے اگر امریکا میں کوئی اثاثے ہیں تو انھیں ضبط کر لیا جائے گا۔

محکمہ خزانہ نے جن ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عاید کی تھیں، ان میں علی خامنہ ای کے دستِ راست وحید ہاغنین اور چیف آف اسٹاف محمد محمدی گولپیغانی ، ایرانی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی اور سپریم لیڈر کا صاحب زادہ مجتبیٰ خامنہ ای شامل ہیں۔‘‘ ابراہیم رئیسی کو اس سال مارچ میں ایرانی عدلیہ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔