.

استنبول سے کارگو جہاز میں ہتھیار لیبیا منتقل کیے گئے : لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی فوج کے اعلان کے مطابق ایک بوئنگ طیارے کا پتہ چلایا گیا ہے جو ترکی سے عسکری ساز و سامان لیبیا منتقل کر رہا تھا۔

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے اتوار کی شب ایک وڈیو بیان میں بتایا کہ بوئنگ 747-412 نوعیت کے ایک شہری طیارے نے استنبول سے ہتھیار اور عسکری ساز و سامان لیبیا کے مغرب میں واقع شہر مصراتہ کے ہوائی اڈے پہنچایا۔

المسماری نے فضائی ٹرانسپورٹ کی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ شہری طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں کی منتقلی سے گریز کریں۔

ترجمان نے باور کرایا کہ لیبیا کی فضائیہ ہتھیاروں کو لے کر آنے والے کسی بھی طیارے کو مار گرانے یا نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گی۔

لیبیا کی فوج کی جانب سے مصراتہ کی ملیشیاؤں کو طرابلس اور سرت سے انخلاء کے لیے دی گئی مہلت اتوار کے روز ختم ہو گئی۔ اس موقع پر المسماری نے کہا کہ فوج کی جنرل کمان نے اس مہلت میں مزید تین روز کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے ،،، اور اب مصراتہ کے لوگوں کی درخواست پر یہ مہلت بدھ کے روز پوری ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مہلت کے اندر طرابلس اور سرت سے نکل کر جانے والے مسلح عناصر اور فورسز کو لیبیا کی فوج کی جانب سے نشانہ ہر گز نہیں بنایا جائے گا۔

ترکی کی سپورٹ

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کے روز ایک بار پھر باور کرایا کہ ان کا ملک لیبیا میں وفاق کی حکومت کے لیے عسکری سپورٹ میں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے اور طرابلس کے درمیان رابطہ کاری جاری رہے گی"۔

ایردوآن نے زور دے کر کہا کہ طرابلس کی مدد کے لیے فضائی، بری اور بحری کمک فراہم کرنے کے تمام راستوں پر غور کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ترکی ایک سے زیادہ بار کہہ چکا ہے کہ اگر لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت کے سربراہ فائز السراج نے مدد کی درخواست کی تو انقرہ بلا تاخیر مدد کرے گا۔ قومی وفاق کی حکومت کے حریف لیڈر جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے سینیر عہدے دار بریگیڈیئر خالد المحجوب نے کہا ہے کہ ترکی طرابلس ملیشیا کی مدد کے لیے تجارتی بحری جہاز استعمال کر رہا ہے۔