.

الجزائر کے آرمی چیف احمد قاید صالح وفات کرگئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے آرمی چیف جنرل احمد قاید صالح سوموار کے روز اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر 79 سال تھی۔

انھوں نے چار روز قبل ہی الجزائر کے نئے منتخب صدر عبدالمجید تبون کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ نئے صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوری بعد جنرل احمد قاید صالح کو ملک کا سب سے اعلیٰ اعزاز ’آرڈر آف میرٹ‘ دیا تھا۔

ان کی وفات پر صدر عبدالمجید تبون نے ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور برّی فوج کے سربراہ جنرل سعید شنقريحہ کو مسلح افواج کا قائم مقام چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔

مرحوم آرمی چیف نے الجزائر کے مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی اس سال اپریل میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد معزولی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔سابق صدر کے خلاف فروری سے احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔

قاید صالح 1940ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے 17 سال کی عمر میں الجزائر کی قومی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور فرانسیسی استعمار کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔الجزائر کی 1962ء میں فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد وہ نئی تشکیل شدہ فوج میں شامل ہوگئے تھے۔ انھیں 1994ء میں برّی فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور 2004ء میں انھیں الجزائر کی مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیاگیا تھا۔انھیں 11 ستمبر 2013ء کو الجزائر کا نائب وزیر دفاع بنا دیا گیا تھا۔

وہ اپریل میں مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی معزولی کے بعد سب سے طاقتور سیاسی کھلاڑی کے روپ میں سامنے آئے تھے۔تاہم انھوں نے انتخابات کے انعقاد ہی کو ملک کو درپیش سیاسی بحران کا واحد حل قراردیا تھا۔انھوں نے انتخابات کے شفاف انداز میں انعقاد پر زوردیا تھا۔

جنرل احمد قاید صالح کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب الجزائر میں عوامی احتجاجی تحریک کے زیر اہتمام ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین ملک کی تمام سیاسی اشرافیہ سے گلو خلاصی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انھوں نے اسی ماہ الجزائر میں منعقدہ صدارتی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا تھا اور ان کے انعقاد سے قبل وسیع تر سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔