.

سعودی عرب میں جمال خاشقجی کے قاتلوں کا ٹرائل اہم پیش رفت ہے: ٹرمپ انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی انتظامیہ نے سعودی عرب میں صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں کا ٹرائل اور ان میں پانچ کو سزائے موت کے حکم کو ایک اہم اقدام قراردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’اس خوف ناک جرم کے ذمے داروں کا احتساب اہم اقدام ہے اور ہم سعودی عرب کی ایک منصفانہ اور شفاف عدالتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘‘

قبل ازیں سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں پانچ افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے اور مقدمے میں ملوّث ہونے کے جرم میں تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لکھاری جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں سعودی حکام نے اکیس سعودی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی تحقیقات کے بعد ان میں سے گیارہ افراد کے خلاف فرد جرم عاید کی تھی۔عدالت نے ان میں سے تین افراد کو بے قصور قرار دیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سال ستمبر میں سی بی ایس کے پروگرام ’’60 منٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جمال خاشقجی کے قتل کو ایک سنگین جرم قراردیا تھا۔