.

ضرورت پڑنے پر طرابلس کی مزید فوجی مدد کریں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی فوجی مدد کا پابند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑی تو طرابلس کی مزید فوجی مدد کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں صدر ایردوآن نے کہا کہ انقرہ اور طرابلس کے درمیان رابطہ اور تعاون آئندہ بھی نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طرابلس کی مدد کے لیے فضائی، بری اور بحری کمک فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائےگی۔

ٹی آرٹی ترک ٹیلی ویژن پر نشر کردہ ایک بیان میں صدر ایردوآن نے کہا کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کےساتھ طے پائے دفاعی معاہدے پر کسی دبائو میں نہیں آئیں گے۔ یونان اور اس کے بعض اتحادی ممالک چاہتے ہیں کہ ترکی سمندر میں کوئی کارروائی کرنے کے قابل نہ رہے۔ کسی دوسرے ملک کی طرح ہمارے بھی حقوق ہیں اور ہم مشرق وسطیٰ میں اپنے حقوق کا دفاع کریں گے۔

درایں اثناء ترک وزیر دفاع خلوصی آکار نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہےکہ ان کا ملک لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں امن استحکام کےقیام تک ترکی فائز السراج کی مدد کرے گا۔

خیال رہے کہ ترکی ایک سے زاید بار کہہ چکا ہے کہ اگر لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج نے مدد کی درخواست کی تو انقرہ بلا تاخیر لیبیا کی مدد کرے گا۔

قومی وفاق حکومت کے حریف لیڈر جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے سینیر عہدیدار بریگیڈیئر خالد المحجوب نے کہا ہے کہ ترکی طرابلس ملیشیا کی مدد کے لیے تجارتی بحری جہازوں کو استعمال کررہا ہے۔