سعودی عرب اورکویت کے درمیان مشترکہ کنووں سے تیل پیداوارکی بحالی کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب اور کویت کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع نیوٹرل زون کی دونوں ملکوں میں تقسیم سے متعلق ایک سمجھوتا طے پایا گیا ہے اور انھوں نے سرحدی علاقےمیں تیل کی مشترکہ پیداوار شروع کرنے سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پربھی دست خط کیے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی اطلاع کے مطابق وزیر تیل شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز اور کویتی وزیر خارجہ ڈاکٹر احمد ناصر محمد الصباح نے نیوٹرل زون میں واقع الوفرہ میں منگل کے روز منعقدہ ایک تقریب میں سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔

مفاہمت کی یادداشت(ایم او یو) پر سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز اور کویت کے وزیر توانائی اور پانی و بجلی ڈاکٹر خالد علی الفاضل نے دست خط کیے ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سمجھوتے اور ایم او یو پر دست خط دونوں ممالک کے درمیان شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امیرِکویت شیخ صباح الاحمد الصباح کے زیر قیادت شاندار اور ممتاز برادرانہ تعلقات کے غماز ہیں۔

انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ان کے باہمی مفاد میں اس تاریخی سمجھوتے کی تکمیل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کاوشوں کو سراہا۔انھوں نے واضح کیا کہ ’’ان مشترکہ کنووں سے پیداوار کی بحالی سے عالمی مارکیٹ میں سعودی عرب کی تیل کی رسد کی سطح پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کو اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے مطابق 97 لاکھ 44 ہزار بیرل یومیہ پر برقرار رکھا جائے گا۔‘‘

کویت کے وزیرتیل خالد الفاضل نے بھی ان کی اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ دوکنووں اکخفجی اور الوفرہ سے تیل کی پیداوار کی بحالی سے سعودی عرب اور کویت کی بین الاقوامی ذمے داریوں پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

واضح رہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن سعودی عرب اور کویت نےطویل مذاکرات کے بعد اکتوبرمیں نیوٹرل زون میں واقع تیل کے کنووں سے پیداوار دوبارہ شروع کرنے سے اتفاق کیا تھا اور دسمبر کے اوائل میں سعودی دارالحکومت الریاض میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے موقع پر اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی۔

ماضی میں دونوں ملکوں کی کمپنیاں مشترکہ طور پر تیل کے ان کنووں کا انتظام چلاتی رہی ہیں مگر بعض سیاسی اور انتظامی اختلافات کی بنا پر سعودی عرب اور کویت کے درمیان واقع غیر جانبدار سرحدی علاقے ( نیوٹرل زون) میں تیل کے دوکنووں اکخفجی اور الوفرہ سے تیل کی پیداوار بند کردی گئی تھی۔دونوں ملکوں کے حکام گذشتہ کئی ماہ سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق اب سمجھوتے کے تحت الخفجی سے آیندہ چند ماہ میں تیل کی پیداوار شروع کردی جائے گی۔

نیوٹرل زون میں 1920ء کے عشرے میں تیل دریافت ہوا تھا ۔مذکورہ دونوں کنووں سے ان کی بندش سے قبل تیل کی پانچ لاکھ بیرل یومیہ پیداوار حاصل ہورہی تھی لیکن دونوں ملکوں میں بعض اختلافات کی وجہ سےانھیں بند کردیا گیا تھا۔ان کنووں سے حاصل ہونے والی پیداوار سعودی عرب اور کویت میں مساوی تقسیم کی جاتی رہی ہے۔

اخفجی فیلڈ کا انتظام اخفجی جائنٹ آپریشنز کمپنی کے پاس ہے۔ یہ کویت کی خلیج آئیل کمپنی اور اَگوکو کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اگوکو سعودی عرب کی سرکاری بڑی کمپنی سعودی آرامکو کی ذیلی کمپنی ہے۔اس کو اکتوبر 2014ء میں ماحولیاتی وجوہ کی بنا پر بند کردیا گیا تھا اور تب اس کی پیداوار دو لاکھ 80 ہزار بیرل سے تین لاکھ بیرل تک یومیہ تھی۔

الوفرہ کو مئی 2015ء میں انتظامی مشکلات کی بنا پر بند کردیا گیا تھا۔ تب یہاں سے دو لاکھ 20 ہزار بیرل یومیہ عربی بھاری خام تیل نکالا جارہا تھا۔ امریکا کی بڑی تیل کمپنی شیوران سعودی عرب کی جانب سے اس فیلڈ سے تیل کی پیداوار حاصل کررہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں