عرب پارلیمان کا خاشقجی قتل کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب پارلیمان کے صدر مشعل بن فہم السلامی نے کہا ہے کہ سعودی عدالت کا مقتول صحافی جمال خاشقجی کے مشہور مقدمے میں فیصلہ مملکت کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور لوگوں کو انصاف دینے کے عزم کا مظہر ہے۔انھوں نے اس قتل کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں عرب پارلیمان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے منگل کے روز ان کا یہ بیان نقل کیا ہے:’’عدالت کا فیصلہ اس معاملے میں سعودی عرب کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔جو بھی اس واقعے میں ملوّث تھے، ان کا احتساب اور شفاف انداز میں ٹرائل کیا گیا ہے۔‘‘

مشعل السلامی نے تمام دوسرے ممالک پر زوردیا ہے کہ ’’وہ سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں سے باز رہیں اور نہ اس کے داخلی امور میں مداخلت کریں۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ جو کوئی ملک بھی اس کیس سے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا تو عرب پارلیمان اس کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہوگی۔‘‘

سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے سوموار کے روز جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں پانچ افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا اور مقدمے میں ملوّث ہونے کے جرم میں تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لکھاری جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء کو ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔اس واقعے میں ملوّث ہونے کے الزام میں سعودی حکام نے اکیس شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی تحقیقات کے بعد ان میں سے گیارہ افراد کے خلاف فرد جرم عاید کی تھی۔عدالت نے ان میں سے تین افراد کو بے قصور قرار دے کر برّی کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں