.

ایران :مظاہروں کی نئی لہروں سے قبل انٹرنیٹ کی بندش کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متعدد صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر سے قبل حکام نے موبائل انٹرنیٹ پر بیرونی ویب گاہوں تک رسائی پرپابندی عاید کردی ہے۔ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر جمعرات کو نئے احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

گذشتہ ماہ ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہلاک شدگان کے لواحقین اور دوسرے ایرانی شہریوں نےسوشل میڈیا کی پوسٹوں میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایلنا نے وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ’’سکیورٹی حکام‘‘ نے انٹرنیٹ کی بندش کا حکم دیا ہے۔اس کے تحت ایران کے وسطی صوبوں البرز ، کردستان ،زنجان ،مغربی ایران اور جنوب میں واقع صوبہ فارس میں انٹرنیٹ تک رسائی معطل کی جارہی ہے۔

اس ذریعے کے مطابق ’’موبائل انٹرنیٹ پر پابندی سے مزید صوبے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ایران نے نومبر میں بھی پیٹرول کے قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ کو بند کردیا تھا۔ایرانی سکیورٹی فورسز نے احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا۔

انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے مظاہرین کے لیے ویڈیوز یا تحریری مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اس طرح وہ زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت بھی حاصل نہیں کرسکتے۔نیز انٹرنیٹ پر پابندی سے ایران میں بدامنی کے بارے میں قابل اعتماد اطلاعات بھی نہیں مل پاتی ہیں۔

ایرانی حکومت نے15نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 300 فی صد تک اچانک اضافہ کردیا تھا۔اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور یہ ایک سو شہروں اور قصبوں میں پھیل گئے تھے۔بعض شہروں میں نقاب پوش نوجوانوں نے پیٹرول اسٹیشنوں ، بنکوں اور دوسری سرکاری املاک کو نذر آتش کردیا تھا اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہُک نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا تھا لیکن خود ایرانی حکومت نے ہلاکتوں کے کوئی اعداد وشمار جاری نہیں کیے تھے۔