.

ترک صدر کا تُونسی ہم منصب سے لیبیا میں جنگ بندی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے تُونسی ہم منصب قیس سعید کے ساتھ لیبیا میں جنگ بندی کے قیام کے لیے ممکنہ اقدامات اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر ایردوآن غیرعلانیہ دورے پر آج بدھ کو دارالحکومت تُونس پہنچے تھے اور انھوں نے تُونسی صدر پروفیسر قیس سعید سے ملاقات کی ہے۔ العربیہ کے ذرائع کے مطابق ترک صدر کے ساتھ ان کے وزیر خارجہ ، انٹیلی جنس کے سربراہ اور سکیورٹی مشیر بھی تُونس گئے ہیں۔

انھوں نے صدر قیس سعید کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں اپنے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ’’تُونس لیبیا میں استحکام کے لیے مفید اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔‘‘انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ لیبیا میں جلد سے جلد جنگ بندی ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ ترکی اور لیبی وزیراعظم فایزالسراج کے زیرقیادت قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے درمیان اسی ماہ ایک سمجھوتا طے پایا ہے،اس کی شرائط کے تحت ترکی اور لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت بحرمتوسط کے مشرقی علاقے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔

اس کے علاوہ ان کےدرمیان ایک سکیورٹی سمجھوتا بھی طے پایا تھا۔اس کے تحت ان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔صدر ایردوآن نے 10 دسمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی جی این اے کی مدد کے لیے لیبیا میں اپنے فوجی اہلکار بھیجنے کو تیار ہے۔

انھوں نے کہا تھاکہ ’’ اگر لیبیا ہم سے ایسی کوئی درخواست کرتا ہے تو ہم وہاں اپنے اہلکاروں کو بھیج سکتے ہیں بالخصوص ہمارے درمیان طے شدہ فوجی سکیورٹی سمجھوتے کے بعد تو ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق ترکی پہلے ہی لیبیا میں قومی اتحاد کی وفادار فورسز کو ٹینکوں اور ڈرونز سمیت فوجی آلات مہیا کرچکا ہے۔