.

ترک پارلیمنٹ میں لیبیا میں فوج تعینات کرنے کےلیے مسودہ قانون پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایوان صدر کے ترجمان نےکل منگل کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک ایسے مسودہ قانون پر غور کیا جا رہا ہےجس کی منظوری کے بعد لیبیا میں ترک فوج تعینات کی جا سکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ انقرہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ان کی حکومت کو ضروری مدد فراہم کرتا رہے گا۔

حال ہی میں ترک پارلیمنٹ نے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ سلامتی اور فوجی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدہ گذشتہ ماہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور لیبیا کے متنازع وزیراعظم فائز السراج کے درمیان طے پایا تھا۔

انقرہ اور الوفاق حکومت نے گذشتہ ماہ کے آخر میں ایک وسیع ترسیکیورٹی اور فوجی معاہدے اور بحری سرحدوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر علاحدہ علاحدہ دستخط کیے تھے۔ پڑوسی ملک یونان نے اس معاہدے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

10 دسمبر کو ترک صدر نے بیان دیا کہ وہ سراج حکومت کی طرف سے مدد کی درخواست کی گئی تو ترکی طرابلس کی مدد کے لیے اپنے فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعد لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر اور ترکی کے درمیان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ترک صدر کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عرب اور یورپی ممالک نے سلامتی کونسل میں ترکی کی طرف سے لیبیا کی وفاق حکومت کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لیے صلاح مشورہ شروع کیا ہے۔ عرب ممالک اور یورپی یونین طیب ایردوآن اور فائز السراج حکومت کے درمیان دفاعی ڈیل پرعمل درآمد روکنے کے لیے بھی کوشش کررہے ہیں۔