.

ترکی کا جنگ زدہ لیبیا میں اپنے فوجی بھیجنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے لیبیا میں اپنی فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ترکی کے بحرمتوسط کے مشرقی علاقے پر دعوے پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جارہی ہے۔

ترک صدر نے جمعرات کو یہ اعلان کیا ہے کہ وہ لیبیا میں جنوری کے اوائل میں فوجی بھیجنے سے متعلق پارلیمان میں ایک بل پیش کریں گے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت کی درخواست پر ترک فوجی بھیجے جارہے ہیں۔

لیبیا میں اس وقت خانہ جنگی جاری ہے۔ وزیراعظم فایز السراج کے زیر قیادت قومی حکومت کی فورسز کی مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے ساتھ دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے لڑائی ہورہی ہے۔

ترک صدر نے اس بیان سے ایک روز قبل ہی تُونس میں ہم منصب قیس سعید سے ملاقات کی تھی اور انھوں نے وزیر اعظم فایزالسراج کی حکومت کی حمایت سے اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’تُونس لیبیا میں استحکام کے لیے مفید اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔‘‘انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ لیبیا میں جلد سے جلد جنگ بندی ہونی چاہیے۔

جنرل خلیفہ حفتر نے طرابلس پر قبضے کے لیے اپریل میں دھاوا بولا تھا ۔تب سے ان کی خود ساختہ لیبی قومی فوج اور وزیراعظم فایز السراج کی حکومت کے تحت فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔قومی حکومت کی فورسز میں مختلف ملیشیائیں اور جنگجو گروپ شامل ہیں۔ان میں ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہنے والے بعض گروپ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی اور لیبی وزیراعظم فایزالسراج کے زیرقیادت قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے درمیان اسی ماہ ایک سکیورٹی سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔صدر ایردوآن نے 10 دسمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی جی این اے کی مدد کے لیے لیبیا میں اپنے فوجی اہلکاربھی بھیجنے کو تیار ہے۔

انھوں نے کہا تھاکہ ’’ اگر لیبیا ہم سے ایسی کوئی درخواست کرتا ہے تو ہم وہاں اپنے اہلکاروں کو بھیج سکتے ہیں۔بالخصوص ہمارے درمیان طے شدہ فوجی سکیورٹی سمجھوتے کے بعد تو ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق ترکی پہلے ہی لیبیا میں قومی اتحاد کی وفادار فورسز کو ٹینکوں اور ڈرونز سمیت فوجی سازوسامان مہیا کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی نے گذشتہ ماہ فایزالسراج حکومت سے ایک اور سمجھوتے پر بھی دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ترکی میں بحر متوسط کے جنوبی ساحلی علاقے سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک ایک خصوصی اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔یونان اور قبرص نے اس سمجھوتے کو سمندر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ان دونوں ملکوں کا ایک عرصے سے ترکی کے ساتھ سمندری اور علاقائی حدود پر تنازع چلا آرہا ہے۔

یونان نے اس سمجھوتے کے بعد لیبیا کے ایتھنز میں تعینات سفیر کو بے دخل کردیا ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں ایک عذر داری بھی دائر کی ہے۔قبرص نے اس پر اپنے طور پراعتراضات کیے ہیں۔واضح رہے کہ یورپی یونین کے لیڈروں نے 12 دسمبر کو ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں یونان اور قبرص کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مصر اور اسرائیل بھی ترکی کی لیبیا کے ساتھ معاملہ کاری پر چوکنا ہوگئے ہیں۔انھوں نے اس خطے میں تیل اور گیس کی تلاش اور انھیں نکالنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ مذکورہ سمجھوتے سے ان کی یورپ کو گیس برآمد کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔مصر نے اس سمجھوتے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کا پابند نہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس سے خطے کا امن واستحکام متاثر ہوسکتا ہے۔