.

روس اور ترکی سے نمٹنے کے لیے امریکا کی نظریں بحرمتوسط کے حلیف ممالک پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قانون ساز اس وقت ترکی اور روس کا مقابلہ کرنے کے لیے بحر متوسط کے علاقے میں نئے قوانین کا سہارا لینے کی تگ و دو میں ہیں تا کہ اسرائیل ، یونان اور قبرص جیسے امریکا کے حلیف ممالک کی حمایت کی جاسکے۔

گذشتہ ہفتے کانگرس نے ایک قانون کی منظوری دی جو 14 کھرب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے پیکج کا حصہ ہے۔ یہ پیکج امریکا کو مذکورہ علاقے میں قدرتی گیس کی منڈی کا مرکزی کھلاڑی بنا دے گا۔ اس سلسلے میں بحر روم کے مشرق میں واقع ممالک کے ساتھ سیکورٹی اور توانائی کے شعبوں میں شراکت داری کے واسطے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ یہ بات امریکی اخبار The Hill نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

یہ اقدامات یونان کے ساتھ عسکری تعلقات کو مضبوط بنائیں گے، قبرص پر کئی دہائیوں عائد ہتھیاروں کی پابندی کو ختم کر دیں گے ، ایک بار پھر سے امریکا کی اپنے حلیفوں کے لیے سپورٹ کو باور کرائیں گے اور ان حلیفوں کو ایسی پوزیشن میں لے آئیں گے کہ وہ ترکی کی علاقائی خواہشات پر کنٹرول رکھ سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سال 2020 کے لیے امریکی دفاعی بجٹ کے قانون کی منظوری دی گئی۔ اس میں قبرص پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کا اٹھایا جانا بھی شامل ہے۔ اس امر نے انقرہ کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔

امریکی اخبار کی ویب سائٹ نے سینیٹر مارکو روبیو کے حوالے سے بتایا کہ قبرص پر امریکی ہتھیاروں سے متعلق عائد پابندی اٹھائے جانے اور یونان کے لیے مطلوب غیر ملکی عسکری امداد پیش کیے جانے سے یہ قانون سازی علاقے کے مرکزی شراکت داروں کے استحکام کے واسطے ایک جامع قربت کو جنم دے گی۔

سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن بوب میننڈیز کے مطابق یہ قانون سازی بحر متوسط کے مشرق میں امریکا کی شرکت کے حوالے سے ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔

ترکی نے حال ہی میں لیبیا میں وفاق کی حکومت کے ساتھ ایک سمندری سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے ذریعے ترکی اب یونان اور قبرص کے علاقائی پانی میں مداخلت کر سکے گا۔ اس کے علاوہ مذکورہ دونوں ملکوں کی اپنے اقتصادی زونز میں گیس کی تلاش کے عمل کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

قبرص اور ترکی کے درمیان علاقائی تنازع تقریبا نصف صدی تک پھیل چکا ہے۔ قبرص کی ریاست دو حصوں میں منقسم ہے۔ ان میں جنوبی حصہ آزاد جمہوریہ قبرص کے پاس اور شمال کا حصہ ترقی کے قبضے میں ہے۔

امریکی رکن کانگرس جوس بیلاریکس نے، جو قانونی بل کی تائید کر چکے ہیں، کہا ہے کہ "امریکا کے ساتھ یونان، قبرص اور اسرائیل کی شراکت داری مناسب وقت پر خصوصی صورت میں سامنے آئے گی"۔

امریکا کی قانون سازی کا مقصد واضح صورت میں ترکی کی توبیخ ہے۔ اس میں وہ متن شامل ہے جس کے مطابق نیٹو اتحادیوں کی جانب سے روس کے S-400 میزائل دفاعی سسٹم کو برقرار رکھنے کی صورت میں ان ممالک کیF-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں شمولیت ممنوع ہو گی۔

دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں امریکی قانون کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا قبرص پر اسلحہ کی خرید پر عاید پابندی اٹھا کر مسئلے کے سیاسی حل تک پہنچنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ بیان کے مطابق امریکی کانگرس میں "ترکی مخالف ساتھیوں" نے F-35طیاروں کی حوالگی میں غیر منصفانہ طریقے سے رخنہ اندازی کی۔

کانگرس نے امریکی ایجنسیوں پر لازم کیا ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے نیٹو اتحاد کے حلیف ممالک قبرص اور یونان کی سمندری اور فضائی حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دیں۔

امریکی یہودی کمیٹی میں سیاست اور سفارتی امور کی نائب ڈائریکٹر جولی ریمن کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا منصوبہ امریکا کو اس پوزیشن میں لے آئے گا کہ وہ زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے عمل میں شریک ہو سکے ،،، اس میں ترکی کا بھرپور احتساب شامل ہے۔ جولی کے مطابق اس قانون سے کانگرس اور امریکی حکومت کو موقع فراہم ہو گا کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر ترکی کی کسی بھی جارحیت یا اشتعال انگیزی کے جواب پر کڑی نظر رکھ سکے۔

اسی طرح یہ قانون ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے منہ پر ایک ضرب ثابت ہو گا۔ کانگرس نے شام کے شمال مشرق میں کردوں کے خلاف ایردوآن کے زیر قیادت ترکی کے فوجی آپریشن کی سخت مذمت کی تھی۔ مذکورہ کرد عناصر داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کے اتحادی رہ چکے ہیں۔

یونان اور قبرص کے وزراء خارجہ کچھ عرصہ قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ علاقے میں قدرتی گیس کی توانائی کے سیکٹر کو مضبوط بنانے سے متعلق سمجھوتوں میں شمولیت کے لیے ترکی کے سامنے دروازہ کھلا چھوڑ رہے ہیں تاہم ساتھ ہی وہ انقرہ کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہے ہیں۔