.

صدر ٹرمپ کا روس ، شام اور ایران کو ادلب میں شہریوں کی ہلاکتوں پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس ، شام اور ایران کو صوبہ ادلب میں شہریوں کی ہلاکتوں پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی اس خونریزی کو رکوانے کے لیے سخت جدوجہد کررہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ روس ،شام اور ایران صوبہ ادلب میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کررہے ہیں یا ہلاک کرنے جارہے ہیں۔ وہ ایسا مت کریں۔ترکی اس خونریزی کو رکوانے کی غرض سے سخت جدوجہد کررہا ہے۔‘‘

شامی اور روسی فوج نے باغیوں کے زیرقبضہ آخری صوبہ ادلب پر قبضے کے لیے تباہ کن بمباری شروع کررکھی ہے۔شامی صدر بشار الاسد نے اس صوبے پر دوبارہ قبضے اور وہاں اپنی عمل داری قائم کرنے کا عزم کیا ہے،روس اور ایران ان کی حکومت کی عسکری ، سفارتی اور سیاسی مدد کررہے ہیں۔

روس کے لڑاکا طیارے شامی طیاروں کے ساتھ ادلب میں واقع شہروں اور قصبوں پر بلاامتیاز فضائی حملے کررہے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی ، روس اور ایران کے لیڈروں نے ستمبر میں انقرہ میں ادلب میں جاری لڑائی کے خاتمے سے اتفاق سے کیا تھا۔روسی اور شامی فوج کی اگست میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں ادلب میں کم سے کم پچاس ہزار افراد بے گھر ہوگئے تھے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کالین نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ ترک وفد نے ماسکو میں روسی حکام سے بات چیت کی ہے اور اب روس ادلب میں حملوں کو رکوانے کے لیے کام کرے گا۔

ادلب میں صدر بشارالاسد کی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں اس ہفتے کے دوران میں 120 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ادلب میں نئی دوبدو لڑائی گذشتہ اتوار کو شروع ہوئی تھی۔اس میں شامی نظام کے 54 فوجی اہلکار مارے گئے تھے اور مسلح حزب اختلاف اور شہریوں کی 53 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اسدی فوج کی ادلب کو سرنگوں کرنے کے لیے اس نئی کارروائی کے بعد ہزاروں شہری نقل مکانی کرگئے ہیں۔ صوبہ ادلب کے جنوب میں واقع دیہات اور قصبوں سے لوگ ٹرکوں ، کاروں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے اپنی اشیائے ضروریہ کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔

شامی فوج نے گذشتہ ہفتے القاعدہ کے ماضی میں اتحادی باغی گروپوں کے زیر قبضہ اس آخری صوبہ ادلب پر قبضے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔شامی فوج روس کے فضائی حملوں کی مدد سے پیش قدمی کررہی ہےاور باغیوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے بھی شدید گولہ باری کررہی ہے۔

رصدگاہ کی اطلاع کے مطابق شامی فوجی باغیوں کے زیر قبضہ شہر معرۃ النعمان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔یہ شہر دارالحکومت دمشق اور ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔