.

عراق :وزارتِ عظمیٰ کے ایرانی حمایت یافتہ امیدوار کے خلاف احتجاج جاری ،کئی عمارتیں نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں وزارت عظمیٰ کے مجوزہ امیدوار کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین نے کئی ایک عمارتوں کو نذر آتش کردیا ہے اور اہم شاہراہیں بند کررکھی ہیں۔

عراقی مظاہرین گذشتہ تین ماہ سے تمام سیاسی اشرافیہ کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اب وہ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ امیدوار کو وزیراعظم نامزد کرنے کے لیے مذاکرات کرنے والے سیاسی لیڈروں کے خلاف بھی اپنے غیظ وغضب کا اظہار کررہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جنوبی شہروں ناصریہ ، بصرہ اور دیوانیہ میں تمام بڑی شاہراہوں اور دریائے فرات پر پُلوں کو بند کیے رکھا ہے۔البتہ انھوں نے صبح کے وقت بعض شاہراہوں کو کھول دیا تھا۔

ناصریہ میں مظاہرین نے دوسری مرتبہ صوبائی حکومت کے دفاتر کو نذر آتش کردیا ہے۔انھوں نے دیوانیہ میں ایران نواز ایک ملیشیا کے صدر دفاتر کو بھی آگ لگا دی۔عراق کے کم وبیش تمام جنوبی شہروں میں آج سرکاری دفاتر اور اسکول بند رہے ہیں۔

ایران نواز دھڑے عادل عبدالمہدی کے استعفے کے بعد سے قصئی السہیل کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے بہتر امیدوار کےطور پر پیش کرتے رہے ہیں۔وہ مستعفی کابینہ میں اعلیٰ تعلیم کے وزیر تھے لیکن ان کی نامزدگی کو صدر برہم صالح نے مسترد کردیا ہے اور انھوں نے واضح کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے مسترد شدہ کسی امیدوار کو وزیراعظم نامزد کرنے کے بجائے پارلیمان میں اپنا استعفا پیش کرنے کو ترجیح دیں گے۔

اب ایران نواز سیاسی دھڑے جنوبی صوبہ بصرہ کے گورنر اسعد العیدنی کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن مظاہرین نے انھیں بھی ایران کا آلہ کار قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔وہ کسی ایسی ٹیکنوکریٹ شخصیت کو وزیراعظم بنانے کے حق میں ہیں جس کا امریکا کی 2003ء میں عراق پر چڑھائی اور صدام حسین کی معزولی کے بعد قائم ہونے والے سیاسی نظام میں کوئی کردار نہ رہا ہو۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 460افراد ہلاک اور قریباً 25 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر افراد سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تشدد آمیزکارروائیوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔