.

لیبیا میں ہمارے اجرتی جنگجو نہیں ہیں : سوڈانی فوج کا ایردوآن کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی فوج نے ترکی کے صدر کے حالیہ بیان کے جواب میں کہا ہے کہ "لیبیا میں ہمارے اجرتی جنگجو موجود نہیں ہیں"۔ سوڈانی فوج نے لیبیا میں سوڈانی فوج کے کسی بھی اہل کار کی موجودگی کی تردید کی۔

اس سے قبل رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز اپنے تیونس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ "لیبیا میں سوڈان کے 5 ہزار اور روس کے 2 ہزار جنگجو لڑ رہے ہیں"۔ ترکی کے صدر نے سوال اٹھایا کہ یہ لوگ کس حیثیت سے لیبیا میں داخل ہوئے، ان کا وہاں کیا کام ہے اور ان کے کن سے تعلقات ہیں ؟

سوڈان کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد الحسن کا کہنا ہے کہ سوڈانی فوج کا لیبیا میں سوڈانی اجرتی جنگجوؤں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جمعرات کے روز ایک اخباری بیان میں الحسن کا کہنا تھا کہ اجرتی قاتلوں یا جنگجوؤں کا کوئی ملک نہیں ہوتا یہ ایک پیشہ بن چکا ہے۔ انہوں نے لیبیا میں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اجرتی جنگجوؤں کی قومیتوں کا تعین کریں اور بتائیں کہ یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔

سوڈانی فوج کے ترجمان نے باور کرایا کہ ان امور کی وضاحت کا تعلق لیبیا کے حکام سے ہے نہ کہ کسی بھی دوسرے ملک سے ... انہوں نے باور کرایا کہ اُن کا ملک اقوام متحدہ کی قراردادوں کا خیال کرتا ہے جو لیبیا میں عدم مداخلت اور غیر جانب دار رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔