.

لیبیا : وفاق کی حکومت نے سرکاری طور پر ترکی سے معاونت طلب کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک ذمے دار نے تصدیق کی ہے کہ فائز السراج کی سربراہی میں وفاق کی حکومت نے سرکاری طور پر ترکی سے فضائی، زمینی اور سمندری عسکری سپورٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مقصد خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی قومی فوج کے حملے کو پسپا کرنا ہے۔

مذکورہ ذمے دار نے یہ بات اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر جمعرات کی شب دیے گئے بیان میں بتائی۔ اس سے قبل وفاق کی حکومت کے وزیر داخلہ فتحی آغا نے تیونس میں صحافیوں کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ لیبیا نے اس حوالے سے ابھی تک سرکاری طور پر درخواست پیش نہیں کی۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق وفاق کی حکومت نے لیبیا کی فوج کا حملہ روکنے کے لیے ترکی سے فضائی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے اور خاص طور پر فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بھی مدد طلب کی ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن یہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک طرابلس حکومت کے مطالبے پر جلد ہی اپنی فوج لیبیا بھیجے گا اور یہ آئندہ ماہ ہو سکتا ہے۔ جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ ترکی کو وفاق کی حکومت کی درخواست موصول ہوئی ہے جس میں ترک فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایردوآن نے زور دے کر کہا کہ "ہم ایسا کریں گے"۔

ترک چینل ٹی آر ٹی کے مطابق صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ "ہم لیبیا کی قومی فوج کے خلاف وفاق کی حکومت کو تمام تر وسائل کے ساتھ سپورٹ کرتے ہیں ... آئندہ ماہ آٹھ جنوری کو فوج لیبیا بھیجنے کی منظوری دے دی جائے گی"۔

لیبیا کے لیے ترکی کے نمائندے امر اللہ ایشلر کا کہنا ہے کہ "ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا ہم اپنے فوجی لیبیا بھیجیں گے ... ہم اس جگہ کا رخ کریں گے جہاں ہمیں بلایا جائے گا"۔

ترک نمائندے کے مطابق طرابلس حکومت نے مطالبہ کیا تو اُن کا ملک لیبیا میں ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اڈہ صومالیہ اور قطر میں ترکی کے اڈوں کی طرز پر ہو گا۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السيسی نے ٹیلیفونک رابطے میں گفتگو کے دوران لیبیا میں "غیر ملکی فریقوں کی جانب سے استحصال" کو مسترد کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں سربراہان نے اس بات کی ضرورت پر اتفاق کیا کہ تمام فریق فوری اقدامات کریں تا کہ تنازع کا حل سامنے آ سکے اور لیبیا کے عوام بیرونی فریقوں کے مفاد میں اپنے ملک کا کنٹرول نہ کھو دیں"۔

ماسکو نے بھی لیبیا میں وفاق کی حکومت کی سپورٹ کے واسطے ترکی کی فوج کی ممکنہ تعیناتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کرملن ہاؤس کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتین اور اطالوی وزیراعظم جوزیبے کونٹے نے جمعرات کے روز اس بات پر اتفاق کیا کہ لیبیا کے تنازع کو پر امن طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

البتہ دوسری جانب ایردوآن گذشتہ ہفتے یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ روس لیبیا کی قومی فوج کو سپورٹ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔ اس سے قبل رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز اپنے تیونس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ "لیبیا میں سوڈان کے 5 ہزار اور روس کے 2 ہزار جنگجو لڑ رہے ہیں"۔