استنبول میں شامی صوبہ ادلب میں فضائی بمباری پر روس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں سیکڑوں ترک اور شامی شہریوں نے ہفتے کے روز حزب اختلاف کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبہ ادلب پر روس اور اسد رجیم کی بمباری میں شدت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاہے۔

مظاہرین میں زیادہ تر ترکی میں مقیم شامی شہری تھے۔ انھوں نے استنبول میں روس کے قونصل خانے کے نزدیک جمع ہوکر احتجاج کیا ہے۔وہ روسی صدر ولادی میر پوتین کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے اور انھیں ’’قاتل پوتین‘‘ قرار دیتے ہوئے شام سے روس کے انخلا کا مطالبہ کررہے تھے۔

وسط دسمبر کے بعد سے روس اور اسد رجیم کی فورسز نے ادلب کے جنوبی علاقے میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر فضائی حملے تیز کررکھے ہیں۔

روسی اور شامی لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں اور اسدی فوجی کی زمینی کارروائی کے نتیجے میں بیسیوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں اور دو لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ بے گھر ہوگئے ہیں۔

استنبول میں مظاہرہ کرنے والے افرادنے روسی اور شامی فوج کے حملوں میں مرنے والوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔بعض نے ایک بینر پکڑ رکھا تھا جس پر یہ عبارت لکھی تھی:’’ روس ہمارے بچوں اور لوگوں کو ہلاک کررہا ہے مگر دنیا کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔‘‘ ان مظاہرین میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

مظاہرے میں شریک ایک شامی شہری کا کہنا تھا:’’ ہم دہشت گرد نہیں، ہم انسان ہیں۔ہم اس ملک میں زندہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔مادر وطن کو خیرباد کہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ہم یہاں بڑے دل جگرے اور درد کے ساتھ رہ رہے ہیں۔‘‘

مظاہرین میں شامل ایک ترک خاتون گلدین صنمیز کا کہنا تھا کہ’’ہم یہاں شام میں جاری اس قتل عام کے خلاف احتجاج کے لیے آئے ہیں۔میں روس اور بالخصوص شامی صدر بشارالاسد سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جو کوئی بھی اس قتل عام کا ذمے دار ہے،انھیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہوگا اور انسانیت کے نام پر جنگی جرائم کی قیمت چکانا ہوگی۔‘‘

ترک پولیس نے مظاہرین کو شاہراہ استقلال پر واقع روسی قونصل خانے کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی اور راستہ بند کردیا تھا۔ البتہ اس نے مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ کو ایک بینر لہرانے کی اجازت دے دی جس پر یہ لکھا تھا:’’روس اور اسد رجیم نے تیس ہزار سے زیادہ بچّوں کو ہلاک کردیا ہے۔‘‘

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی اس وقت ملک کے ستر فی صد علاقے پر عمل داری قائم ہوچکی ہے۔ وہ کئی مرتبہ ادلب پر دوبارہ کنٹرول کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔اب باغیوں کے زیر قبضہ اس صوبے کے شہروں اور قصبوں کو سرنگوں کرنے کے لیے روس کے لڑاکا طیارے شامی طیاروں کے ساتھ بلاامتیاز فضائی حملے کررہے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

ترکی ، روس اور ایران کے لیڈروں نے ستمبر میں انقرہ میں ادلب میں جاری لڑائی کے خاتمے سے اتفاق سے کیا تھا۔اس سے پہلے روسی اور شامی فوج کی اگست میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں ادلب میں کم سے کم پچاس ہزار افراد بے گھر ہوگئے تھے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کالین نے گذشتہ منگل کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ ترک وفد نے ماسکو میں روسی حکام سے بات چیت کی ہے اور اب روس ادلب میں حملوں کو رکوانے کے لیے کام کرے گا لیکن اس کے بعد سے ادلب میں جنگ بندی کے لیے کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے قریباً پچاس لاکھ مہاجرین رہ رہے ہیں۔ ان میں سینتیس لاکھ شامی شہری ہیں۔ترک صدر ایردوآن یورپ کو پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ ان کا ملک ادلب پر تباہ کن بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہوکر آنے والے نئے شامی مہاجرین کا بوجھ سہارنے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں