.

ترکی کے فوجی مشیراعلیٰ کی بیرون ملک برآمد کے لیے پیراملٹری فورس تشکیل دینے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اعلیٰ فوجی مشیر نے حکومت کو ’’شرپسندوں‘‘ کو عسکری تربیت دینے کے لیے ایک نجی ملٹری کمپنی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔

’’انڈی پینڈنٹ‘‘ کے ترک ایڈیشن کے مطابق حکومت کے عسکری مشیراعلیٰ ریٹائرڈ جنرل عدنان تنروردی نے ایک انٹرویو میں بیرون ملک کام کرنے کے لیے ایک ایسی فوجی کمپنی کے قیام کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ وہ خود بھی ایک نجی کنٹریکٹر عسکری کمپنی ’’سادات‘‘ کے مالک ہیں۔انھوں نے اس نجی ملیشیا کی تشکیل کی وضاحت بھی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ ترکی کو یقینی طور پر’بلیک واٹر‘ اور ’ویگنر‘ایسی نجی کمپنی کی ضرورت ہے۔یہ ترکی کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی آلہ کار ہوگی۔‘‘

واضح رہے کہ ویگنر ایک پیراملٹری گروپ ہے۔اس کے ٹھیکے دار روس کے زیر قبضہ مشرقی یوکرین ، شام اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں کام کرچکے ہیں۔بلیک واٹر امریکا کی بدنام زمانہ پیراملٹری فورس تھی۔اس نے امریکا کی عراق پر 2003ء میں فوجی چڑھائی کی حمایت کی تھی۔اس پرعراق میں عام شہریوں کو بے دردی سے ہلاک کرنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

ترک ریٹائرڈ جنرل کے بہ قول مجوزہ نجی فوج بڑی اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس میں تجربہ کار ریٹائرڈ فوجی شامل ہوں گے۔اس کی باقاعدہ ایک کمان ہوگی۔اس کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان ترک آرمی مہیا کرے گی۔

ان کی اس مجوزہ عسکری فورس کی تشکیل سے متعلق تجویز کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے اہلکاروں کو بیرون ملک بھیجی جانے والی کسی بھی دوسری شے کی طرح برآمد کیا جاسکے گا۔ترک آرمی کے فوجیوں اور افسروں کے بجائے اس ملیشیا کو بیرون ملک تعینات کیا جائے گا اور اس سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

دریں اثناء ترکی کے رکن پارلیمان اور اٹلی میں سابق سفیر عدنان سیزگین نے لیبیا کے ساتھ فوجی سمجھوتے کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے پارلیمان میں اس موضوع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس سمجھوتے کو بیرون ملک فوجی بھیجنے سے متعلق قانون سازی کو بائی پاس کرنے کے انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔

انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت پرشام کے شمال مغربی صوبہ ادلب سے لیبیا میں دہشت گرد منتقل کرنے کے طریقے ڈھونڈنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ایک اور رکن پارلیمان اور تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی ( او ای سی ڈی) میں سابق ترک سفیر احمد احمد کامل ایروزان نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس امر کی نشان دہی کی ہے کہ اس سمجھوتے کے ترک ، عربی اور انگریزی کے مسودے کے الفاظ میں فرق ہے اور یہ فریب دہی پر مبنی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور لیبی وزیراعظم فایزالسراج کے زیرقیادت قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے درمیان اسی ماہ ایک سکیورٹی سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ صدرایردوآن نے 10 دسمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی جی این اے کی مدد کے لیے لیبیا میں اپنے فوجی اہلکار بھیجنے کو تیار ہے۔

انھوں نے کہا تھاکہ ’’ اگر لیبیا ہم سے ایسی کوئی درخواست کرتا ہے تو ہم وہاں اپنے اہلکاروں کو بھیج سکتے ہیں۔بالخصوص ہمارے درمیان طے شدہ فوجی سکیورٹی سمجھوتے کے بعد تو ایسا ممکن ہے۔‘‘اس کے بعد انھوں نے انھوں نے گذشتہ ہفتے لیبیا میں فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ ترکی نے گذشتہ ماہ فایزالسراج حکومت سے ایک اور سمجھوتے پر بھی دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ترکی میں بحر متوسط کے جنوبی ساحلی علاقے سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک ایک خصوصی اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔یونان اور قبرص نے اس سمجھوتے کو سمندر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ان دونوں ملکوں کا ایک عرصے سے ترکی کے ساتھ سمندری اور علاقائی حدود پر تنازع چلا آرہا ہے۔