.

کرکوک فوجی اڈے پر حملے کا بدلہ ایران سے لیا جائے: امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حکمراں جماعت ری پبلیکن پارٹی کے ایک سینیر رہ نما اور سینیٹر ٹام کاٹن نے عراق کے کرکوک میں ایک امریکی فوجی اڈے پرہونے والے دہشت گردانہ حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی سینیٹر ٹام کاٹن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ کرکوک میں امریکی اڈے پر حملے کا فیصلہ کن ردعمل ظاہر کرے اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے۔ان کا کہنا ہے کہ کرکوک میں ہونے والے حملے میں امریکی ٹھیکیدار کی ہلاکت اور ایک امریکی فوجی کے زخمی ہونے کا ذمہ دار ایران ہے۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ذریعہ امریکیوں کا لہو بہایا گیا ہے تو تہران کو فوری اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل عراق کے شہر کرکوک میں قائم ایک فوجی اڈے پر راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک امریکی ٹھیکیدار ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہوگیا تھا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسزکو اڈے کے قریب ایک ایک خالی گاڑی میں کاتیوشا راکٹ لانچر ملا۔ کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس اڈے شہر سے15 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع اڈے میں امریکی فوج، عراق کی وفاقی پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکارں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

آئی ایس آئی ایس کے کارکن خطے میں سرگرم عمل ہیں ، بغداد میں حکومت گرانے کے مقصد سے گوریلا حربوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ اس نے دسمبر 2017 میں اپنے زیر کنٹرول تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کیا تھا اور فتح کا اعلان کیا تھا۔

دسمبر 2017ء کو 'داعش' کی عراق میں شکست کے بعد اب داعشی جنگجو اس علاقے عراقی حکومت ختم کرنے کے لیے گوریلا کارروائیاں کررہے ہیں۔ حال ہی ایک امریکی عسکری عہدیدار نے کہا تھا کہ عراق میں موجود فوجی اڈوں کو ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کی طرف سے حملوں کا سامنا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نیوز ویک میگزین کو بتایا کہ اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔