.

گورنرنیویارک نے ربی کے گھر پر چاقو حملے کو دہشت گردی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست نیویارک کے گورنر نے یہود کے میلے ’حانوکا‘ کے موقع پر ایک ربی کے گھر پر چاقو حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دے دیا ہے۔ ہفتہ اور اتوارکی درمیانی شب نیویارک شہر کے نواحی علاقے مونسے میں اس چاقو حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق ایک چاقو بردار شخص ہفتے کی شب راک لینڈ کاؤنٹی، مونسے میں واقع یہودی ربی کے ملکیتی مکان میں داخل ہوا تھا۔اس نے چاقو کے وار کرکے متعدد افراد کو زخمی کردیا تھا اور پھر فرار ہوگیا تھا۔ پولیس نے بعد میں اطلاع دی ہے کہ اس واقعے میں ملوّث ہونے کے الزام میں ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ دہشت گردی کی ایک کارروائی ہے۔میرے خیال میں یہ داخلی دہشت گرد ہیں۔یہ خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’انھیں نفرت سے تحریک ملی ہے، وہ بڑے حملے کررہے ہیں۔یہ ہمارے ملک میں ایسے دہشت گرد ہیں جو دوسرے امریکیوں پر دہشت گردی کے حملے کررہے ہیں، ہمیں ان سے نمٹنا ہوگا۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا میں حالیہ برسوں کے دوران میں یہودیوں پر اس طرح کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ سال ایک سفیدفام سپرماشسٹ نے پٹسبرگ میں واقع ایک صومعہ میں گیارہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔امریکا میں یہودی کمیونٹی پر یہ سب سے مہلک حملہ تھا۔

اسی ماہ جرسی شہر میں فائرنگ کے ایک واقعے میں دو مشتبہ حملہ آوروں سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ یہود مخالف جذبات کی بنا پر پیش آیا تھا۔

اپریل میں یہود کی ایک غیرسرکاری تنظیم اینٹی ڈیفامیشن لیگ ( اے ڈی ایل) نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2018ء میں یہود مخالف حملوں کی تعداد 1879 رہی تھی۔اس سے گذشتہ سال بھی یہودیوں پر اتنی ہی تعداد میں حملے کیے گئے تھے۔