.

ایرانی صدر حسن روحانی کا اعترافِ ناکامی ، مگر الزام دشمن پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بہت سے وعدوں کو ایفا کرنے میں ناکام رہی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت ملک حالتِ جنگ میں ہے،اس لیے وہ یہ وعدے پورے نہیں کرسکی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ حکومت نے حالتِ امن میں وعدے کیے تھے لیکن اس وقت ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔امن اور جنگ کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ یہ جنگ ہم نے نہیں چھیڑی تھی، یہ دشمن نے شروع کی تھی۔دشمن نے 2018ء سے ایران کے خلاف مکمل پیمانے پراقتصادی جنگ مسلط کررکھی ہے۔‘‘ ان کا اشارہ امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ سخت پابندیوں کی جانب تھا جس کی وجہ سے ایران کی تیل کی برآمدات ختم ہوکر رہ گئی ہیں اور اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

صدر حسن روحانی کا کہنا تھا:’’دشمنوں کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ دباؤ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ان کا مقصد ہمیں مذاکرات کی میز پرلانا ہے۔ وہ ہم سے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں لیکن یہ ناممکن ہے۔‘‘

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ایران کی معیشت کی جڑیں پابندیوں کے باوجود مضبوط ہیں۔ہماری قوم کو روزمرہ زندگی میں کوئی مسائل درپیش نہیں اور انھیں ضروری اشیاء مہیا کی جارہی ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق ملک میں پابندیوں سے بے روزگاری کی شرح پر کچھ فرق نہیں پڑا ہے اور ہم اس سال موسم گرما میں افراطِ زر کی شرح کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے تھے۔‘‘

واضح رہے کہ حسن روحانی نے 2017ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات سے قبل یہ کہا تھا کہ ان کے پاس داخلی اور خارجی مسائل سے نمٹنے کے لیے 100 روزہ منصوبہ ہے۔انھوں نے صدر منتخب ہونے کے بعد 40 سے زیادہ وعدے کیے تھے۔

مگر اس وقت ان کے دعووں کے برعکس ایران میں افراطِ زر کی شرح 35 فی صد کے لگ بھگ ہے۔گذشتہ ماہ ان کی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک تین گنا اضافہ کردیا تھا جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے خونیں کریک ڈاؤن کیا تھاجس کے نتیجے میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن صدر حسن روحانی نے اپنے اس بیان میں ان مظاہروں کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’’ان (دشمن) کا یہ خیال تھا کہ وہ ہماری قوم پر چند ماہ کے لیے دباؤ ڈالیں گے تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے لیکن یہ ان کی مکمل لاعلمی اور غلط اندازہ تھا کیونکہ ہمارے لوگ بخوبی آگاہ ہیں کہ کون ان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔‘‘